راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مسلح افواج پاکستان کی محافظ ہیں۔ وردی ہمارا فخر اور پرائیڈ ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی پر سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز جنگی معاملات سے آگاہی فراہم کرے گا۔ ہم پاکستان کی سالمیت کیلئے اپنی جانیں دیتے ہیں اور جانیں لیتے ہیں۔ پاکستان کے بغیر ہم کچھ نہیں۔ افواج پاکستان اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی اجازت کسی کے باپ کو بھی نہیںدں گے۔ اصل بیانیہ ذہنی مریض دیتا ہے۔ یہ غدار شیخ مجیب الرحمٰن سے بھی متاثر ہے۔ اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والا دوسروں کو غدار کہتا پھر رہا ہے۔ ایک شخص کی ذات اور خواہشات ریاست پاکستان سے بڑھ کر ہیں۔ اس شخص کی سیاست ختم ہو چکی۔ اس منفی بیانیئے کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔ انڈیا اور افغانستان سے سوشل میڈیا اکائونٹس اس کے بیانئے کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ انڈین میڈیا پھر ان ٹویٹس اور بیانئے کو چلاتا ہے۔ مسلح افواج عوام اور ہندوتوا سوچ کے درمیان ڈھال ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس شخص کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔ یہ کون سی سیاست ہے، یہ کہاں کی آزادی رائے ہے۔ ہم بار بار کہہ رہے ہیں ہمیں اپنی سیاست سے دور رکھو۔ اس شخص سے جب کوئی ملے تو یہ ریاست پاکستان اور فوج کے خلاف بیانیہ دیتا ہے۔ یہ شخص آئین و قانون اور رولز کو بالائے طاق رکھ کر بیانیہ دیتا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن پر پروپیگنڈا کیا گیا جس پر جھوٹ کا سیلاب تھا۔ اس شخص سے جو ملاقات کرے تو یہ ریاست اور فوج مخالف بیانیہ دیتا ہے۔ یہ سمجھتا ہے جو پاک فوج سے تعلق رکھے وہ غدار ہے، او تم ہو کون؟۔ کیا پیغام دینا چاہتے ہو‘ خود کو کیا سمجھتے ہو جو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہو۔ تم سمجھتے کیا ہو اپنے آپ کو؟۔ 9 مئی کو جی ایچ کیو پر حملے کرنے والے بھی یہی لوگ تھے۔ شہداء کی یادگاروں کی بیحرمتی کرنے والے بھی یہی لوگ تھے۔ پاک فضائیہ کے دشمن سے جیتے ہوئے اثاثوں کو انہی شرپسندوں نے آگ لگائی تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اب سیاست اور سیاسی شعبدہ بازی ختم ہو چکی۔ اب اس کا بیانیہ پاکستان اور قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ یہ کون سا آئین اور قانون ہے جس کے ساتھی اس سے ملتے ہیں، یہ سمجھتا ہے جو یہ کہہ رہا ہے وہ ٹھیک ہے۔ تم ایک وقت میں کسی کو بیوقوف بنا سکتے ہو لیکن ہمیشہ سب کو بیوقوف نہیں بناسکتے۔ یہ سمجھتا ہے وہ حکومت میں نہیں تو آمریت ہے۔ آپ کی سیاست اور شعبدہ بازی کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ تمہارے پاس ایک صوبے کی حکومت ہے، اس پر بات کیوں نہیں کرتے۔ پاکستان کے اتنے ایشوز ہیں ان پر بات کیوں نہیں کرتے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم آپ کو اجازت نہیں دیں گے کہ پاکستان کی افواج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالیں۔ آپ کو اجازت نہیں دیں گے کہ عوام کو افواج کے خلاف بھڑکائیں۔ فوج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کسی کے باپ کو بھی ہم اجازت نہیں دیں گے۔ ذہنی مریض کی منطق کے مطابق جب بھارت نے حملہ کیا یہ ہوتا تو کشکول لے کر چل پڑتا کہ آئو بات کرتے ہیں۔ یہ تو کہتا تھا کہ خارجیوں کا پشاور میں دفتر کھول دیں۔ لوگوں کو ابھارتا ہے کہ ہنگامے کرو۔  لوگوں کو آپریشن کے خلاف کھڑے ہونے کیلئے اکساتا ہے۔ ہمیں کلیئر ہے کہ اس کی سیاست یا ذات ریاست سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ذہنی مریض ہے۔ یہ ٹیررکرائم نیکسس منشیات ، بغیر کسٹم پیڈ کاروں ، اغواء برائے تاوان اور بے تحاشہ چیزوں میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ذہنی مریض افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہا ہے۔ فوج اپنی ریاست کیلئے جان دیتی ہے اور جان لیتی ہے۔ تم نے اپنے بچے باہر رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں لاؤ، فوج میں بھیجو، بھارت اور خوارج کے سامنے کھڑا کرو۔ پاک فوج کے افسران کا تعلق کسی ایلیٹ طبقے سے نہیں۔  فیلڈ مارشل ایک سکول ٹیچر کے بیٹے ہیں۔ ہم عوام میں سے آئے ہیں۔ کوئی لوڈر گاڑی چلانے والے کا، کوئی دکاندار کا، کوئی کلرک کا، کوئی کسی غریب آدمی کا بیٹا ہے۔ ہمارے افسر اور جوان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید ہورہے ہیں، تم فوج پر تنقید کرتے ہو۔ ذرا دہشتگردوں کے آگے تو آئو۔ پاک فوج کا ہر جوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان جنگ میں جاتا ہے۔ خوارج کے سامنے کون کھڑا ہوتا ہے ؟ کون اپنی جانیں دیتا ہے؟۔ ہم نے اپنی جانیں دینی اور  لینی بھی ہوتی ہیں۔ انہوں نے عوام کو بتایا تھا کہ ملک ڈیفالٹ کر جائے گا، کیا کرگیا؟۔ یہ بھی بتایا تھا کہ فوج لڑ نہیں سکتی۔ 6 اور 7 مئی کو جب بھارت نے ہماری مساجد اور مدارس پر حملہ کیا، فوج لڑی یا نہیں اور لڑ کر دکھایا۔ پوری دنیا میں اس کی آواز گئی یا نہیں؟۔ گورنر راج کا فیصلہ حکومت کرے گی، فوج کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ دہشتگردی ایک دن میں ختم نہیں ہوتی اس کیلئے سیاسی جذبہ درکار ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات جو سب جماعتوں کا مشترکہ فیصلہ ہے اس پر عملدرآمد ضروری ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کیلئے قربانیاں دیتے ہیں۔ یہ ایف سی پر حملے کراتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر عملدرآمد کس نے کرانا ہے۔ میں کے پی کے پولیس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے قربانیاں دی ہیں۔ مسلح افواج کی قیادت کو نشانہ بنانے والے قوم کے خیر خواہ نہیں۔ جھوٹا پروپیگینڈا پھیلاتے ہیں۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن پر ہر دس منٹ بعد وی لاگ ہورہے تھے۔ یہ شخص صرف پاک فوج کے خلاف بیانیہ بناتا ہے۔ فوج کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ پروپیگنڈا سیل کسی کا بھی نوٹیفکیشن بنا لیتا ہے۔ بھارتی اینکرز ان شعبدہ بازوں کے بیانیئے کو ہوا دیتے ہیں۔ اس جماعت کے پیروکار بھارتی میڈیا کو مسلسل منفی مواد فراہم کرتے ہیں۔ خوارجیوں سے بات کرنے کیلئے یہ بیانیہ بنا رہے ہیں۔ آئین میں آزادی اظہار رائے کی اجازت ہے لیکن قومی سلامتی پر آئین اظہار رائے کی اجازت نہیں دیتا۔ پاک فوج کے خلاف کسی بیانئے کی اجازت نہیں دیں گے۔  ایک شخص نے پاکستان کی ترسیلات زر بند کرنے کا کہا۔ عوام کو بجلی کے بل جمع نہ کرانے کی ترغیب دی۔ لیکن ہم نے اپنے سے آٹھ گنا بڑی فوج کے سامنے کھڑے ہو کر دکھایا۔ کوئی چاہتا ہے کہ فوج دہشتگردوں کے سامنے قوم کی ڈھال نہ بنے۔ یہ لوگ بیانئے کو پوری طرح پھیلاتے ہیں۔ افغانستان اور بھارت کا سوشل میڈیا ان کے بیانئے کو بڑھاوا دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مسلح افواج کیخلاف ہرزہ سرائی کی جاتی ہے۔ بھارت اور افغانستان میں موجود ٹرولنگ اکائونٹس لمحوں میں بیانیہ وائرل کرتے ہیں۔ بھارتی میڈیا مخصوص ٹولے کا سب سے بڑا سہولت کار ہے۔ بھارتی میڈیا پر نورین نیازی ملک اور قوم کے خلاف انٹرویو دیتی ہیں۔ سہیل آفریدی کی پریس کانفرنس بھی انڈین میڈیا پر دکھائی جاتی ہے۔ بھارتی میڈیا مسلح افواج کے خلاف پی ٹی آئی کی زبان بنا ہوا ہے۔ یہ افواج پاکستان کے خلاف بیانئے پر بہت زیادہ پیسے خرچ کر رہے ہیں۔ خوارج کا سہولت کار افغان میڈیا بھی ان کے بیانئے پر ٹرولنگ کر رہا ہے۔ اس ذہنی مریض نے دو دن پہلے ٹویٹ کیا۔ اس ذہنی مریض کے ٹویٹ کو افغان اور بھارتی میڈیا نے منٹوں میں وائرل کیا۔ یہ ذہنی مریض پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہا ہے۔ ان کی پارٹی سے پوچھیں تو کہتے ہیں ہمیں نہیں پتہ عمران خان کے ٹویٹ کہاں سے ہوتے ہیں۔ یہ ذہنی مریض کہتا ہے کہ فوج کی اس قیادت کو ٹارگٹ کریں جس نے معرکہ حق میں پاکستان کو فتح دلائی۔ اصل بیانیہ یہی ذہنی مریض دیتا ہے اور یہ صرف پاک فوج کے خلاف بیانیہ بناتا ہے۔ ماضی میں کسی سیاست دان نے ایسا کام نہیں کیا۔ ان کی سیاست صرف پاک فوج کے گرد گھومتی ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو بیوقوف بنایا جا سکتا ہے مگر ایسا نہیں ہے۔ اب وقت ہے کہ ہمیں بتانا پڑے گا کہ یہ بیانیہ کون چلا رہا ہے۔ یہ دہشتگردی اور جرائم کا گٹھ جوڑ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر نے کہا کہ چیف ا ف ڈیفنس فورسز اجازت نہیں دیں گے افواج پاکستان بھارتی میڈیا یہ ذہنی مریض فوج کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج پاکستان کے پاک فوج کے بیانئے کو کے درمیان دیتے ہیں کی اجازت کی سیاست کے سامنے عوام کو دیتا ہے رہے ہیں ختم ہو رہا ہے

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی