data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بیروت:  اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں کیے گئے ایک ڈرون حملے میں حزب اللہ کے لاجسٹک یونٹ کے سربراہ عباس حسن کرکی کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ شہید ہوگئے۔

عالمی میڈیا رپورٹس  کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا کہ کارروائی لبنان کے علاقے نباتیہ کے قریب تول نامی قصبے میں کی گئی، جہاں ایک گاڑی کو ڈرون حملے سے نشانہ بنایا گیا،  حملہ اُس وقت کیا گیا جب حزب اللہ کمانڈر عباس حسن کرکی اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق ڈرون حملے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ حزب اللہ کے رہنما موقع پر ہی شہید ہوگئے،  عباس حسن کرکی حزب اللہ کے جنوبی محاذ کے لاجسٹک یونٹ کے سربراہ تھے اور انہوں نے حالیہ برسوں میں کئی اہم کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ عباس حسن کرکی اسلحے کی ترسیل، ذخیرہ اور نقل و حمل کے ذمہ دار تھے جو کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان غیر رسمی سرحدی معاہدے کی خلاف ورزی تھی۔

دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے تاحال اس واقعے کی باضابطہ تصدیق یا ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم لبنانی ذرائع کے مطابق حملے کے مقام پر امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

خیال رہےکہ حماس کی جانب سے تو جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکاری ظاہر کی ہے اور اسرائیل کے متعدد وزیر اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب صبح و شام فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عباس حسن کرکی حزب اللہ کے ڈرون حملے

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم