اسرائیلی ڈرون حملے میں حزب اللہ کے لاجسٹک یونٹ کے سربراہ شہید
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیروت: اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں کیے گئے ایک ڈرون حملے میں حزب اللہ کے لاجسٹک یونٹ کے سربراہ عباس حسن کرکی کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ شہید ہوگئے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا کہ کارروائی لبنان کے علاقے نباتیہ کے قریب تول نامی قصبے میں کی گئی، جہاں ایک گاڑی کو ڈرون حملے سے نشانہ بنایا گیا، حملہ اُس وقت کیا گیا جب حزب اللہ کمانڈر عباس حسن کرکی اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ڈرون حملے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ حزب اللہ کے رہنما موقع پر ہی شہید ہوگئے، عباس حسن کرکی حزب اللہ کے جنوبی محاذ کے لاجسٹک یونٹ کے سربراہ تھے اور انہوں نے حالیہ برسوں میں کئی اہم کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ عباس حسن کرکی اسلحے کی ترسیل، ذخیرہ اور نقل و حمل کے ذمہ دار تھے جو کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان غیر رسمی سرحدی معاہدے کی خلاف ورزی تھی۔
دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے تاحال اس واقعے کی باضابطہ تصدیق یا ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم لبنانی ذرائع کے مطابق حملے کے مقام پر امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
خیال رہےکہ حماس کی جانب سے تو جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکاری ظاہر کی ہے اور اسرائیل کے متعدد وزیر اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب صبح و شام فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عباس حسن کرکی حزب اللہ کے ڈرون حملے
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا