ایک سال میں شام پر اسرائیل کے 600 سے زائد حملے: ایکلڈ عالمی تنظیم رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آرمڈ کنفلیکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا (ACLED) کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سال کے دوران، اسرائیل نے شام میں 600 سے زیادہ فضائی، ڈرون یا توپ خانے کے حملے کیے ہیں جو کہ ایک دن میں تقریباً دو حملے ہیں۔
بشارالاسد خاندان کے 54 سالہ دور حکومت کے خاتمہ کے بعد دمشق پر اتحادی گروہوں کے اقتدار میں آنے کا پہلا سال مکمل ہو گیا۔
بشار حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے شام میں اپنی فوجی مہم کو نمایاں طور پر بڑھا کر عدم استحکام کو پروان چڑھایا اور اپنے پڑوسی ملک کے زیادہ تر فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جس میں بڑے ہوائی اڈے، فضائی دفاعی نظام، لڑاکا طیارے اور دیگر اسٹریٹجک تنصیبات شامل ہیں۔
اسرائیلی حملوں کا زیادہ تر حصہ جنوبی شام کی گورنری قنیطرہ، درعا اور دمشق پر مرکوز رہا جو تمام ریکارڈ شدہ اسرائیلی حملوں کا تقریباً 80 فیصد ہے۔
العنان حکمران بشار الاسد کے طویل اقتدار کے خاتمے کا ایک سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں جشن منایا گیا۔ دارالحکومت دمشق سمیت دیگر شہروں میں عوام نے فتحی اور آزادی کے دن کو جوش اور جذبے کے ساتھ منایا۔
اس موقع پر کئی شہروں میں آتشبازی کی گئی اور فوجی پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جس میں چھاتہ بردار دستوں نے فضا میں کرتب دکھائے۔ درعیہ شہرمیں دنیا کا سب سے بڑا روایتی پکوان منسف تیار کیا گیا۔
صدراحمد الشرح نے دمشق کی تاریخی اموی مسجد میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے تحفے میں دیے گئے غلاف کعبہ کے ٹکڑے کی رونمائی بھی کی۔
شامی صدر نے 2029 میں عام انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عبوری دور مزید چار سال جاری رہے گا۔ اس دوران ریاستی اداروں کی تشکیل نو، نئےقوانین کی تیاری اور آئین کا مسودہ تیار کیا جائے گا۔ آئین مکمل ہونے پر اسے عوام کے سامنے ریفرنڈم کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ملک میں عام انتخابات کرائے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر