یوکرین کے ریلوے اسٹیشن پر نوجوان نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا؛ 4 ہلاکتیں، 12 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
یوکرین کے شمالی شہر اووروچ کے ریلوے اسٹیشن پر ایک شخص نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
یوکرین کی بارڈر گارڈ سروس کے مطابق حملہ آور نے تلاشی کے دوران دستی بم یا بارودی مواد سے دھماکا کردیا جسے جسم سے باندھ رکھا تھا۔
دھماکے میں حملہ آور خود بھی شدید زخمی ہوگیا اور اسپتال لے جاتے ہوئے ایمبولینس میں دم توڑ گیا۔ 23 سالہ حملہ آور خارکیف کا رہائشی تھا۔
حملہ آور کو حال ہی میں بیلاروس کی سرحد عبور کرنے کی کوشش میں حراست میں بھی لیا گیا تھا۔ جب وہ فوج میں لازمی بھرتی کی شرط سے بچنے کے لیے فرار ہونا چاہتا تھا۔
حملے میں 3 دیگر خواتین ہلاک اور 12 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے 7 کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔
تاحال حملے کے محرکات سامنے نہیں آسکے ہیں۔ تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔
یوکرینی حکام نے واضح کیا ہے کہ فی الحال دھماکے کا روس-یوکرین جنگ سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا۔ حملہ آور کے محرکات اور ارادے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔
یاد رہے کہ یوکرین میں روسی حملے کے بعد سے مارشل لا نافذ ہے جو فروری 2022 سے اب تک ساڑھے تین سال سے جاری ہے۔
قانون کے تحت 22 سے 60 سال کی عمر کے مردوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں، اور انہیں فوجی خدمات کے لیے بھرتی کیا جا سکتا ہے۔
حکام کے مطابق، جنگ کے دوران یوکرینی افواج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے، تاہم حکومت نے سرکاری اعداد و شمار ظاہر نہیں کیے۔
غیر سرکاری اندازوں کے مطابق، اب تک چار لاکھ سے زائد یوکرینی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حملہ ا ور
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔