ہماری پالیسی بڑی واضح ہے اگر کوئی حملہ کریگا تو ادھار نہیں رکھیں گے، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
ہماری پالیسی بڑی واضح ہے اگر کوئی حملہ کریگا تو ادھار نہیں رکھیں گے، رانا ثنا اللہ WhatsAppFacebookTwitter 0 18 October, 2025 سب نیوز
لاہور (سب نیوز)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کسی جماعت پر پابندی ن لیگ کی پالیسی نہیں مگر ایک جماعت نے ہمیشہ پرتشدد احتجاج کیا، پاکستان کسی ہمسایہ ملک پر حملہ آور نہیں ہوگا لیکن ہم پر حملہ ہوا تو ادھار نہیں رکھیں گے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سواتی صاحب مسلم لیگ (ن)کے فاونڈر ممبرز میں سے تھے، نواز شریف کے قریبی ساتھی تھے، میرے ساتھ بڑے بھائیوں جیسا تعلق تھا، مراد سواتی اپنی ذمہ دارایاں نبھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری پالیسی بڑی واضح ہے کہ پاکستان کسی ہمسایہ ملک کے ساتھ ہے کہ ہم کسی پر حملہ آور نہیں ہوں گے، اگر کوئی ہمارے اوپر حملہ کرے گا اس کا ادھار نہیں رکھیں گے، اب شاید اسکور زیرو سکس نہ ہو، اس سے زیادہ ہو۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ افغانستان کا ہم نے ہمیشہ ساتھ دیا، ہمیں انتہائی افسوس ہے اس طرف سے ہمیشہ تکلیف ملتی رہی ہے، ہم مزید اپنے پیاروں کے، افسروں کے جنازے نہیں اٹھا سکتے، ہم نے واضح کہہ دیا ہے کہ اب دہشت گردوں اور لوگوں میں فرق واضح ہونا چاہیے۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ (ن) لیگ کی پالیسی نہیں رہی کہ کسی بھی جماعت کے اوپر سیاسی ہو یا مذہبی ہو پابندی لگائے، بدقسمتی سے تین واقعات ہوئے ٹی ایل پی نے جب بھی احتجاجی پروگرام کیا تو تشدد اتنا زیادہ ہوا کہ ہلاکتوں پر جاکر بات رکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی پر پنجاب کا معاملہ پنجاب حکومت نے وفاق کو بھیج دیا ہے اب وفاقی حکومت اس پر فیصلہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی بڑی واضح ہے کہ پاکستان کسی ہمسایہ ملک پر حملہ آور نہیں ہوگا لیکن اگر کوئی ہمارے اوپر حملہ کرے گا تو اس کا ادھار بھی نہیں رکھیں گے، ہم ان سے کہیں گے کہ بیٹھ کر معاملات کو حل کریں، معاملات ٹیبل پر حل ہوتے ہیں۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہر صورت ہوں گے، وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے اس کی مکمل تیاری کرلی ہے، وہ چاہتی ہیں کہ گلی محلے تک یہ نظام پہنچے اور عوام اپنا کردار ادا کریں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلامو فوبیا، ایک اور یورپی ملک میں نقاب پر پابندی عائد، سزائیں ، جرمانے کا فیصلہ اسلامو فوبیا، ایک اور یورپی ملک میں نقاب پر پابندی عائد، سزائیں ، جرمانے کا فیصلہ تحفظات سے وفاق کو آگاہ کردیا، کراچی کیلئے کام کیا جائے تو خوش ہونگے، بلاول بھٹو افغانستان سے کشیدگی نہیں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کیخلاف کارروائی چاہتے ہیں ،پاکستان دو دنوں میں خوارج گل بہادر گروپ کے 100سے زائد دہشتگرد ہلاک ہوچکے ، عطا اللہ تارڑ شمالی وزیرستان، فتن الخوارج کی خود کش حملے کی کوشش ناکام، 4دہشتگرد ہلاک سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد پھیلانے کا الزام ، پلندری کے رہاشی امان ادریس کیخلاف تحقیقات کی روشنی میں مقدمہ درجCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اگر کوئی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔