ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بے گھر فلسطینی خاندان پر اپنی رہائشگاہ واپسی کے دوران حالیہ اسرائیلی حملے نیز رفح کراسنگ کو کھولنے سے متعلق عہد و پیمان کو پورا کرنے سے اسرائیل کے انکار سمیت قابض صیہونی رژیم کیجانب سے غزہ جنگبندی معاہدے کی بار بار کی خلاف ورزیوں کی بھی شدید مذمت کی ہے اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے قابض و سفاک صیہونی رژیم کے ہاتھوں غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کی ایک مرتبہ پھر شدید مذمت کی ہے۔ اس بارے جاری ہونے والے بیان میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسمعیل بقائی نے ایک بے گھر فلسطینی خاندان کے، اپنی رہائش گاہ واپسی کے دوران اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کہ جس کے نتیجے میں 2 خواتین اور 7 بچوں سمیت 11 افراد شہید ہوئے ہیں، سمیت غزہ کی پٹی میں جنگ بندی سے متعلق معاہدے کی اسرائیل کی جانب سے بار بار کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ غزہ میں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے مرتکب ہونے والوں کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ قابض و سفاک صیہونی رژیم نے رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے پر مبنی اپنے وعدے کو پورا کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے، اسمعیل بقائی نے عہد و پیمان اور جنگ بندی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی پر مبنی جعلی اسرائیلی رژیم کی سیاہ تاریخ کا حوالہ دیا اور اس حوالے سے ضامن ممالک کی براہ راست ذمہ داری پر تاکید کی۔ انہوں نے عالمی برادری کی جانب سے قابض صیہونی رژیم کو کھلے جنگی جرائم روکنے، غزہ سے انخلاء اور غزہ کے عوام تک خوراک و ضروری سامان پہنچانے پر مجبور کرنے نیز مجرموں کو مزید جرائم کے ارتکاب سے روکنے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صیہونی رژیم خلاف ورزیوں معاہدے کی

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم