Islam Times:
2026-07-24@01:17:13 GMT

یرغمالیوں کی لاشیں، نیتن یاہو کا نیا بہانہ

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

یرغمالیوں کی لاشیں، نیتن یاہو کا نیا بہانہ

اسلام ٹائمز: ایک طرف حماس ہے جو پورے خلوص اور سچائی سے جنگ بندی معاہدے پر عمل پیرا ہے اور ثالثی کرنے والے ممالک سے بھرپور تعاون میں مصروف ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم مختلف بہانوں سے جنگ بندی معاہدے کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہے۔ اخبار گارجین کے مطابق 10 اکتوبر 2025ء کے دن غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک صیہونی رژیم کی جانب سے کئی خلاف ورزیوں کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔ جمعہ 13 اکتوبر سے کل 17 اکتوبر تک غاصب صیہونی فوجیوں کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 24 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ حماس کے ایک اعلی سطحی عہدیدار نے ان اقدامات کو جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ثالثی کرنے والے ممالک کو بھی ان سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ تحریر: علی احمدی
 
غزہ میں جنگ بندی کے بعد مختلف علاقوں سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع ہو گیا اور یوں اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش بھی شروع ہو گئی۔ جنگ بندی معاہدے کی روشنی میں حماس 72 گھنٹے کے اندر اندر تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کرنے کی پابند تھی اور یہ مہلت گذشتہ ہفتے پیر کے دن تک تھی لیکن غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ اس قدر زیادہ ہے کہ ملبہ ہٹانے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں تلاش کرنے کا کام اب بھی مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ اس مسئلے کے پیش نظر جنگ بندی معاہدے میں اس بات کی جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ ممکن ہے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنے کا کام دوسرے مرحلے میں بھی جاری رہے۔ حماس نے اب تک اسرائیل کو 9 یرغمالیوں کی لاشیں دی ہیں اور ان کے بدلے 120 شہید فلسطینیوں کی لاشیں وصول کی ہیں۔
 
اسرائیل کا ہنیبال پروٹوکول
بنجمن نیتن یاہو کی سرکردگی میں غاصب صیہونی فوج کی جانب سے غزہ پر شدید اور اندھا دھند فضائی بمباری نے نہ صرف حماس کی فوجی طاقت کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ بڑی تعداد میں اس کے اپنے ہی یرغمالیوں کی ہلاکت کا باعث بنی ہے۔ ان یرغمالیوں میں سے بہت سوں کی لاشیں اب بھی ٹنوں وزنی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں اور انہیں باہر نکالنے کے لیے جدید آلات کی ضرورت ہے جن کی تعداد غزہ میں انتہائی قلیل ہے۔ یہ صورت حال صیہونی فوج کے اس "ہنیبال پروٹوکول" کا نتیجہ ہے جس پر عرصہ دراز سے عمل ہوتا آیا ہے اور صیہونی فوج اس اصول کے تحت اپنے ان افراد کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے جو دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے خطرے سے روبرو ہوں یا دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہو چکے ہوں۔ اس حکمت عملی کی بنیاد یہ ہے کہ صیہونی فوج کا کوئی سپاہی دشمن کے ہاتھ نہیں لگنا چاہیے۔
 
یوں ہنیبال پروٹوکول کے تحت جب صیہونی فوجیوں کا سامنا حماس مجاہدین سے ہوتا ہے تو وہ اندھا دھند بمباری شروع کر دیتی ہے تاکہ دشمن کے خاتمے کا یقین ہو جائے چاہے اس میں اپنے ہی فوجیوں کی جان کیوں نہ چلی جائے۔ 7 اکتوبر 2023ء کے دن حماس کی جانب سے مقبوضہ فلسطین پر انجام پانے والے طوفان الاقصی آپریشن کے بارے میں انجام پانے والی تحقیقات میں یہ بات بھی واضح ہوئی ہے کہ اس میں ہونے والی اسرائیلی ہلاکتوں کی بڑی تعداد خود اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے حماس کے مجاہدین کا پیچھا کرتے ہوئے بڑی تعداد میں اپنے ان شہریوں کو بھی قتل کر ڈالا جن کے بارے میں اسے یہ خوف تھا کہ وہ کہیں حماس کے ہاتھوں گرفتار نہ کر لیے جائیں۔ معروف تجزیہ کار جان مرشائیمر نے بھی اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے اور کہا ہے کہ 7 اکتوبر 2023ء کے دن خود اسرائیلی فوج اور سیکورٹی فورسز نے بھی بہت سے شہریوں کو قتل کیا ہے۔
 
حماس کی جانب سے جنگ بندی کا خیرمقدم
اگرچہ غاصب صیہونی رژیم اپنے یرغمالیوں کی لاشیں تحویل دینے میں تاخیر کے سبب حماس پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہی ہے لیکن حماس نے ثالثی کرنے والے ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد پر کڑی نظر رکھیں۔ حماس نے اپنے بیانیے میں اعلان کیا ہے کہ ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کمیٹی کی تکمیل ضروری ہے تاکہ غزہ کی عوام کو درپیش مشکلات حل ہو سکیں۔ جنگ بندی معاہدے کے تحت ان فلسطینی ٹیکنوکریٹس نے غزہ کا انتظام سنبھالنا ہے اور جنگ زدہ علاقوں میں موجود مشکلات پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ کا انتظام سنبھالنے کے لیے 15 فلسطینی ٹیکنوکریٹس کا انتخاب مکمل ہو چکا ہے اور حماس سمیت تمام فلسطینی گروہوں نے اس کی حمایت بھی کر دی ہے۔
 
تل ابیب امن کے راستے میں روڑے اٹکا رہا ہے
ایک طرف حماس ہے جو پورے خلوص اور سچائی سے جنگ بندی معاہدے پر عمل پیرا ہے اور ثالثی کرنے والے ممالک سے بھرپور تعاون میں مصروف ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم مختلف بہانوں سے جنگ بندی معاہدے کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہے۔ اخبار گارجین کے مطابق 10 اکتوبر 2025ء کے دن غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک صیہونی رژیم کی جانب سے کئی خلاف ورزیوں کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔ جمعہ 13 اکتوبر سے کل 17 اکتوبر تک غاصب صیہونی فوجیوں کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 24 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ حماس کے ایک اعلی سطحی عہدیدار نے ان اقدامات کو جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ثالثی کرنے والے ممالک کو بھی ان سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
 
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر 15 اکتوبر کے دن صیہونی فوجیوں نے غزہ کے شمال میں فائرنگ کر کے 6 فلسطینیوں کو شہید کر دیا تھا۔ یہ حملے ایسے وقت انجام پائے ہیں جب جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی فوجیوں کو غزہ کے گنجان آباد علاقوں جیسے غزہ اور خان یونس سے باہر نکل جانا چاہیے تھا۔ دوسری طرف اسرائیلی کابینہ کے انتہاپسند وزیروں بزالل اسموتریچ اور اتمار بن غفیر نے ایسے اشتعال انگیز بیانات دیے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی رژیم جنگ بندی ختم کر کے غزہ میں دوبارہ جنگ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اسموتریچ نے غزہ میں جنگ بندی کو "یرغمالیوں کی جان کا سودا" قرار دیا اور حماس کی نابودی تک جنگ جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ اس نے اگلی نسل کے مجاہدین سے درپیش خطرات پر زور دیا اور غزہ میں فوجی دباو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیلی یرغمالیوں کی ثالثی کرنے والے ممالک یرغمالیوں کی لاشیں سے جنگ بندی معاہدے جنگ بندی معاہدے کی صیہونی فوجیوں اسرائیلی فوج میں مصروف ہے غاصب صیہونی صیہونی رژیم صیہونی فوج کی جانب سے کے ہاتھوں ہوئی ہے حماس کے دشمن کے حماس کی ہے اور کے تحت کو بھی

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔

ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل