قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہﷺ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251016-03-1
(اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے) جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ قرآن سنیں جب وہ اْس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہو جاؤ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے۔ انہوں نے جا کر کہا، ’’اے ہماری قوم کے لوگو، ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰؑ کے بعد نازل کی گئی ہے، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی، رہنمائی کرتی ہے حق اور راہ راست کی طرف۔ (سورۃ الاحقاف:29تا30)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ اللہ تعالیٰ اہل زمین میں اپنی شرط پوری نہیں کر لے گا، پھر صرف ایسے ناکارہ لوگ باقی رہ جائیں گے، جن کو نہ نیکی کی معرفت ہو گی اور نہ وہ برائی کو برا سمجھیں گے۔ (مسند احمد)٭ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو قطعیت کے ساتھ (اصرار کرتے ہوئے) دعا کرے اور یہ نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے دے دے، کیونکہ اللہ کو مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ (مسلم)
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نیشنل گارڈز پر فائرنگ کرنے والے مشتبہ حملہ آور کے گھر چھاپہ، رحمان اللہ کے رشتہ داروں سے بھی تفتیش
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وائٹ ہاؤس کے قریب مشتبہ افغان شہری کی فائرنگ سے نیشنل گارڈز کے شدید زخمی ہونے کے بعد مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر گھر گھر تلاشی کی کارروائیاں کی گئیں۔
ایف بی آئی نے ریاست واشنگٹن اور سان ڈیاگو میں چھاپے مار کر متعدد گھروں کی تلاشی لی۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹر کاش پٹیل نے بتایا کہ اہلکار مشتبہ شخص کی رہائش گاہ تک بھی پہنچ چکے ہیں، جہاں سے متعدد الیکٹرانک آلات، جن میں موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور آئی پیڈز شامل ہیں، تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔ ان تمام آلات کا تجزیہ جاری ہے تاکہ واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آسکیں۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کے مطابق فائرنگ کے محرکات جاننے کے لیے گرفتار افغان شہری رحمان اللہ کے رشتے داروں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور واشنگٹن میں اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔
دریں اثنا، حکام نے 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال کی تصویر جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ وہ ماضی میں افغانستان میں امریکی خفیہ ایجنسی “سی آئی اے” کے لیے کام کر چکا ہے۔