گڈ اوربیڈ طالبان کی تھیوری ناکام ہوچکی، اب وہ دہشت گرد ہے یا نہیں ہے، رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اکتوبر2025ء) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ گڈ اور بیڈ طالبان کی تھیوری ناکام ہو چکی۔ کوئی گڈ بیڈ والی بات نہیں ہے یا کوئی دہشت گرد ہے یا نہیں ہے۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان کبھی جنگ میں پہل نہیں کرے گا، جارحیت پرادھاربھی نہیں رکھے گا۔
(جاری ہے)
کسی کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھنے دیں گے۔انہو ں نے کہا کہ کسی بھی دہشتگردی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، اب ہم مزید شہدا کے جنازے نہیں اٹھا سکتے، افغانستان کے رویے پرانتہائی افسوس ہے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کسی بھی جماعت پر پابندی مسلم لیگ ن کی پالیسی نہیں رہی مگر مذہبی جماعت کے احتجاج کے دوران تین بار ہلاکتیں ہوئیں۔ پنجاب حکومت کی پابندی کی سفارش پر وفاقی کابینہ اپنا فیصلہ کرے گی۔ انتشار اور فتنہ کسی کو نہیں پھیلانے دیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔