شہزادہ اینڈریو کا “ڈیوک آف یارک” کا شاہی لقب چھوڑنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن:۔ برطانیہ کے پرنس اینڈریو نے “ڈیوک آف یارک” کا شاہی لقب چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق 65 سالہ شہزادہ اینڈریونے اپنے بیان میں کہا کہ میں اب مزید اپنا شاہی لقب یا وہ اعزازات استعمال نہیں کروں گا جو مجھے دیے گئے تھے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ فیصلہ بادشاہ چارلس سوم سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔ پرنس اینڈریو نے بیان میں کہا کہ وہ اب بھی پرنس کے طور پر جانے جائیں گے لیکن وہ آئندہ اپنے شاہی خطابات استعمال نہیں کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کی جانب سے دیا گیا لقب ڈیوک آف یارک بھی واپس کر دیا گیا ہے۔
شہزادہ اینڈریو نے ایک مرتبہ پھر تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ میرے خلاف جاری الزامات بادشاہ اور شاہی خاندان کے کاموں سے توجہ ہٹاتے ہیں۔
یاد رہے کہ شہزادہ اینڈریو ملکہ الزبتھ دوم کے دوسرے بیٹے ہونے کے ناتے اب بھی شہزادہ رہیں گے ۔ برطانوی میڈیا کے مطابق شہزادہ اینڈریو “آرڈر آف دی گارٹر” کی رکنیت سے بھی دستبردار ہو جائیں گے جو برطانیہ کا سب سے اعلیٰ اعزاز ہے اور 1348ءسے چلا آ رہا ہے۔ان کی سابق اہلیہ سارہ فرگوسن بھی اب “ڈچس آف یارک” کا لقب استعمال نہیں کر سکیں گی تاہم ان کی بیٹیاں شہزادی بیٹریس اور شہزادی یوجینی بدستور شاہی اعزازات کی حامل رہیں گی۔
یاد رہے کہ شہزادہ اینڈریو پر جنسی جرائم میں ملوث جیفری ایپسٹین سے تعلقات پر طویل عرصے سے تنقید جاری تھی تاہم شہزادہ اینڈریو نے ان الزامات کی ایک بار پھر سختی سے تردید کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہزادہ اینڈریو اینڈریو نے آف یارک
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔