ہری پور این اے 18 ضمنی انتخابات کو متنازع بنانے کے الزامات بے بنیاد قرار
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
الیکشن کمیشن نے ہری پور این اے 18 ضمنی انتخابات کو متنازع بنانے کے الزامات بے بنیاد قرار دے دیے۔
الیکشن کمیشن نے جاری اعلامیے میں کہا ہے کہ بعض عناصر ہری پور این اے 18 کے ضمنی انتخابات کو متنازع بنانے کے لیے بلاجواز الزامات لگا رہے ہیں، ان دعوؤں میں ڈی آر اوز اور آر اوز کی تعیناتی کو سازش قرار دینا بھی شامل ہے، جو حقائق کے سراسر منافی ہے۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان نے وضاحت کی کہ جنرل الیکشن میں عملے کی کمی کے باعث ڈی آر اوز اور آر اوز کی تعیناتی ممکن نہیں ہوتی، تاہم ضمنی انتخابات میں ضرورت کے تحت ایسا کیا جاتا ہے، ہری پور این اے 18 کے ضمنی انتخاب میں تعینات الیکشن کمیشن افسران کو اسی ایریا میں ڈی آر اوز اور آر اوز مقرر کیا گیا ہے، جو الیکشنز ایکٹ 2017ء کے تحت کمیشن کا مکمل قانونی اختیار ہے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ کلاس فور سے لے کر ڈسٹرکٹ کمشنر تک تمام سطح پر انکوائری کی جائے گی
ترجمان نے مزید کہا کہ ہمیشہ الیکشن کمیشن ہی ڈی آر اوز اور ریٹرننگ آفیسرز کی تعیناتی کرتا رہا ہے اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور آر او کی تقرری پول ڈے سے بہت پہلے کی جاتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ الیکشن کے دن تک کسی جانب سے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا اور یہ الزامات صرف الیکشن ہارنے کے بعد لگائے جا رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے یہ بھی بتایا کہ الیکشن مکمل ہونے کے بعد تنازعات کے حل کے لیے مختلف فورمز موجود ہیں۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ہری پور این اے 18 ضمنی انتخابات الیکشن کمیشن ڈی آر اوز اور اور آر
پڑھیں:
مصطفیٰ نواز کھوکھر: آئی ایم ایف نے حکومت کے نظام کا بیچ چوراہے بھانڈا پھوڑ دیا
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ حکومت کے نظام چلانے کے انداز نے ملک میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے اس کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں ضمنی انتخابات اور حکومتی اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ اس وقت ملک میں آئین، قانون اور عدلیہ کی وقعت تقریباً ختم ہو چکی ہے، اور ضمنی انتخابات میں جو کچھ ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جس طرح نظام چلا رہی ہے، آئی ایم ایف نے بیچ چوراہے بھانڈا پھوڑ دیا ہے، اور جس ملک میں 5 ہزار ارب سے 6 ہزار ارب کی کرپشن ہو، وہاں کیا حال ہوگا۔
انہوں نے آزاد کشمیر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لوگوں کو دوسری پارٹی میں شامل کیا گیا، اور عوام نے نظام کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت سیاسی طور پر مقبول ترین لیڈر ہیں، لیکن قانون کی کتابوں کی وقعت ختم کر دی گئی ہے، اور ملک میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنما تیمور جھگڑا نے بھی ضمنی انتخابات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر نے اپنی رپورٹ میں عدلیہ کی آزادی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر جتنا بھی کنٹرول کیا جائے، عوام کے ذہن کو نہیں روکا جا سکتا۔
تیمور جھگڑا نے ضمنی انتخابات میں شفافیت کے مسائل کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ شہر ناز، عمر ایوب اور بابر نواز کے ووٹوں کی تفصیلات میں بے قاعدگیاں ہیں، اور الیکشن کمیشن نے ابھی تک فارم 45، 46 اور 47 ریلیز نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر ووٹ شفاف ہو اور الیکشن کے نام پر اربوں روپے ضائع نہ ہوں۔