آسٹریلوی آل راؤنڈر گلین میکسویل نے بھی آئی پی ایل چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے اسٹار کرکٹر اور تجربہ کار آل راؤنڈر گلین میکسویل نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں اپنی طویل وابستگی کا باب بند کرتے ہوئے آئندہ سیزن کے لیے خود کو لیگ سے الگ کرلیا۔
گلین میکسویل نے یہ اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک تفصیلی پوسٹ کے ذریعے کیا، جس میں انہوں نے آئی پی ایل اکشن میں نام نہ دینے کا فیصلہ ظاہر کیا۔
فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ کی معروف ایپلیکیشن انسٹاگرام پر انسٹا پوسٹ شیئر کرتے ہوئے گلین میکسویل کا کہنا تھا کہ کئی یادگار سیزنز کے بعد اب میں نے آئی پی ایل کے آئندہ ایڈیشن میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں نے دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کیا اور شاندار مقابلے کھیلنے کا موقع ملا۔
انسٹا پوسٹ میں میکسویل نے اپنے مداحوں، ٹیم مینجمنٹ اور ساتھی کرکٹرز کا سالہا سال کی سپورٹ پر خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔
واضح رہے کہ میکسویل نے اپنے آئی پی ایل کیریئر میں رائل چیلنجرز بنگلورو کے لیے اہم کردار ادا کیا، تاہم گزشتہ خراب سیزن کے بعد فرنچائز نے انہیں ریلیز کر دیا تھا۔ 2025 کے میگا اکشن میں پنجاب کنگز نے ان پر سرمایہ کاری کی، مگر ناقص کارکردگی کے باعث فائنلسٹ ٹیم نے بھی انہیں برقرار نہ رکھا۔ بعد ازاں میکسویل نے منی اکشن میں رجسٹریشن نہ کرانے کا فیصلہ کیا جس سے ان کے آئی پی ایل سفر کا عملی طور پر خاتمہ ہوگیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جنوبی افریقا کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز فاف ڈو پلیسی اور انگلینڈ کے سابق آل راؤنڈر معین علی بھی آئی پی ایل نہ کھیلنے کا اعلان کرچکے ہیں، جب کہ دونوں کھلاڑی امسال پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں شرکت کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گلین میکسویل میکسویل نے آئی پی ایل کا فیصلہ
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔