ایران نے ہلا دی دنیا کی طاقتوں کی بنیاد،موساد کا جال بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
ویلاگ اسلام ٹائمز اردو کی پیشکش ہے، جس میں اہم خبروں سے متعلق مفید تبصرے پیش کئے جاتے ہیں۔ ہر ہفتے کے روز، مختصر و مفید ویلاگز، دیکھنے و سننے والوں کی خدمت میں پیش کئے جائیں گے۔ سامعین سے گزارش ہے کہ یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں اور اپنی مفید آراء سے مطلع فرمائیں متعلقہ فائیلیںIslam Times V Log 25-10-2025 اسلام ٹائمز وی لاگ
Emerging Global Dynamics: Iran’s Resilience, Lebanon’s Stand & the Shifting Power Balance
ایران نے ہلا دی دنیا کی طاقتوں کی بنیاد،موساد کا جال بے نقاب
شرم الشیخ امن معاہدے کی دھجیاں اُڑا دی گئی اسرائیلی جارحیت پھر سے شروع
دنیا بدل رہی ہے… اور طاقت کا مرکز مشرق بن رہا ہے،ایران،روس اور چائنہ کا نیااعلان؟
ہفتہ وار پروگرام : اسلام ٹائمزوی لاگ وی لاگر: سید عدنان زیدی پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
پروگرام کا خلاصہ:
یہ وی لاگ دنیا میں طاقت کے بدلتے توازن پر ایک جامع تجزیہ ہے۔
ایران کی جوہری صلاحیت اور مزاحمت کی کامیابی
موساد کے نیٹ ورک کی بے نقابی
لبنان کے صدر جوزف عون نے واضح طور پر امریکہ اور اسرائیل کے اس مطالبے کو رد کر دیا ہے جس میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا کہا گیا تھا۔
یہ اعلان صرف ایک حکومتی بیان نہیں بلکہ لبنان کی خودمختاری کا اظہار ہے۔
اسرائیلی حکومت اندرونی طور پر تباہی کے دہانے پر ہے، جسے ’اسرائیل کی نقابت‘ کہا جا سکتا ہے۔
امریکی عوام ٹرمپ کے جھوٹے وعدوں اور سیاسی فراڈ پر سراپا احتجاج ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل دونوں اب اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے حزب اللہ، حماس اور مزاحمتی قوتوں کو غیر مسلح کرنے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔
لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج مزاحمت مضبوط ہے، صیہونیت کمزور، اور امریکی پالیسیوں پر اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔
اس تجزیے میں جانئے کہ دنیا کا کمانڈ سینٹر کیسے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے،
اب فیصلے واشنگٹن یا تل ابیب میں نہیں، بلکہ میدانِ مزاحمت میں ہوں گے۔
اور یہ تبدیلی عالمی سیاست کے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔
#GlobalPolitics2025
#MiddleEastUpdate
#GeoStrategicTrends
#IranAnalysis
#LebanonPerspective
#WorldPowerShift
#AdnanZaidiVlog
#MuslimNewsNetwork
#GlobalAffairs
#StrategicInsights
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلام ٹائمز
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔