سستی اور کاہلی ختم کرنے کا آسان طریقہ، جو سب کیلئے مفید
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اگر آپ ہر وقت بیٹھے یا لیٹے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اٹھ کر کوئی کام کرنا بوجھ محسوس ہوتا ہے، تو یہ سستی یا کاہلی کی علامت ہے۔ سستی نہ صرف طرزِ زندگی بلکہ مجموعی صحت پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔
امریکا کی ٹیکساس یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق، اگر آپ دن بھر میں بیٹھنے کے وقت کو صرف 30 منٹ کم کرلیں اور اس کے بجائے ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمیاں، جیسے چہل قدمی یا گھریلو کام، معمول بنالیں، تو آپ سستی اور کاہلی سے نجات پا سکتے ہیں۔
تحقیق میں 350 سے زائد نوجوان افراد کو شامل کیا گیا اور ان کی سرگرمیوں کو وئیرایبل ڈیوائسز سے مانیٹر کیا گیا۔ محققین نے دریافت کیا کہ جن دنوں میں شرکاء نے بیٹھنے کے بجائے ہلکی سرگرمیوں میں وقت گزارا، اگلے دن وہ زیادہ توانا اور خوش مزاج محسوس کرتے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے جم جانے یا سخت ورزش کرنے کی ضرورت نہیں، صرف اتنا کافی ہے کہ آپ کم بیٹھیں اور جسمانی طور پر متحرک رہیں۔ اس سے نہ صرف اگلے دن کا موڈ بہتر ہوتا ہے بلکہ توانائی اور ذہنی توازن میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل “سائیکولوجی آف اسپورٹس اینڈ ایکسرسائز” میں شائع کیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کےلیے ڈرون مانیٹرنگ شروع کردی گئی ہے۔ ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے ڈرون مانیٹرنگ سے سیلابی ریلے کی آمد کی نشاندہی ممکن ہوگی۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی ڈرون سرویلنس شروع کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تریموں بیراج میں ڈرون سرویلنس کے دوران واٹر لیول نارمل پایا گیا، پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں بھی واٹر لیول کی ڈرون مانیٹرنگ کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں دریائے چناب کے طالب والا پل پر ڈرون مانیٹرنگ میں پانی کا بہاؤ نارمل پایا گیا۔ ہیڈسدھنائی پر ڈرون مانیٹرنگ سے پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا گیا۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق ہیڈ مرالہ میں ڈرون سرویلنس کے دوران پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ منڈی بہاؤالدین کے رسول بیراج پر بھی پانی کا مانیٹر کیا گیا۔