اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں، دنیا بھر کی 450 سے زائد یہودی شخصیات کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی 450 سے زائد نمایاں یہودی شخصیات نے اقوامِ متحدہ، عالمی عدالت انصاف (ICJ)، عالمی فوجداری عدالت (ICC) اور دنیا کے سربراہانِ مملکت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف پابندیاں عائد کریں کیونکہ اس کے حالیہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق نسل کشی (Genocide) کی تعریف پر پورا اترتے ہیں۔
یہ مطالبہ ایک کھلے خط کی صورت میں سامنے آیا ہے، جس پر سابق اسرائیلی عہدیداروں، آسکر ایوارڈ یافتہ فنکاروں، ادیبوں، فلسفیوں اور دانشوروں کے دستخط موجود ہیں۔
خط کے دستخط کنندگان: سیاست دان، مصنفین، فلم ساز اور فنکار شاملخط پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہیں:
سابق اسپیکر کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) اویراہم برگ
برطانوی مصنف مائیکل روزن
آسکر یافتہ فلم ساز جوناتھن گلیزر
امریکی اداکار والیس شون
ایمی ایوارڈ یافتہ ایلانا گلیزر اور ہنّا آئن بائنڈر
کینیڈین مصنفہ ناؤمی کلین
پولٹزر انعام یافتہ بینجمن موزر
جنوبی افریقی ناول نگار ڈیمَن گالگٹ
ٹونی ایوارڈ یافتہ ٹو بی مارلو
اسرائیلی فلسفی اومری بوہم
ہولوکاسٹ کے بعد بنائے گئے قوانین اسرائیل نے خود پامال کیےکھلے خط میں لکھا گیا ہے ’ہم نے نہیں بھلایا کہ انسانی زندگی کے تحفظ کے لیے جو قوانین اور کنونشنز ہولوکاسٹ کے بعد بنائے گئے، وہی اصول آج اسرائیل کے ہاتھوں مسلسل پامال ہو رہے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے غزہ جنگ کے 2 سال: امریکی یہودیوں کے اسرائیل مخالف جذبات میں اضافہ
خط میں مزید کہا گیا کہ عالمی رہنما بین الاقوامی عدالتوں کے فیصلوں کی پابندی کریں، اسلحے کی ترسیل کے ذریعے کسی بھی خلافِ قانون کارروائی میں شریک نہ ہوں، اور غزہ کے لیے انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائیں۔
نسل کشی کے شواہد جمع ہو رہے ہیںخط میں مزید کہا گیا ہے ’ ہم گہرے غم کے ساتھ اعتراف کرتے ہیں کہ اسرائیل کے اقدامات اب اس سطح تک پہنچ چکے ہیں کہ انہیں نسل کشی کی قانونی تعریف کے تحت پرکھا جا سکتا ہے۔‘
دستخط کنندگان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جو لوگ امن اور انصاف کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، ان پر یہود دشمنی کے جھوٹے الزامات بند کیے جائیں۔
فلسطینیوں سے یکجہتی یہودیت سے انحراف نہیں، اس کی تکمیل ہےخط میں ایک اہم پیغام یہ بھی دیا گیا کہ فلسطینیوں کے ساتھ ہماری یکجہتی یہودیت سے انکار نہیں بلکہ اس کی تکمیل ہے۔
ہمارے علما نے سکھایا تھا کہ ایک جان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ اس میں فلسطینی استثنیٰ نہیں۔
دستخط کنندگان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فوری جنگ بندی کے ساتھ ساتھ قبضے اور نسل پرستی (Apartheid) کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیے امریکی یہودیوں کی اکثریت غزہ جنگ کی خلاف ہوگئی، اسرائیل کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیدیا
یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل کی غزہ میں فوجی کارروائیوں کے باعث بڑی تعداد میں عام شہری شہید و زخمی ہوئے ہیں، جبکہ عالمی ادارے انسانی بحران کی سنگینی پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی عدالت انصاف پہلے ہی اسرائیل کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کا سامنا کرنے کی تنبیہ کر چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل یہودی شخصیات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل یہودی شخصیات
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔