عازمین حج کیلیے طبی ماہرین کی خدمات لینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(مانیڑنگ ڈیسک)وزارت مذہبی امور نے حج 2026 کے لیے جانے والے عزام کرام کے لیے طبی ماہرین کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا ہے۔وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ طبی عملے کی کم سے کم عمر25 سال اور زیادہ سے زیادہ 55 سال تک ہوگی، حج مشن کے لیے 98 ڈاکٹرز، فارماسسٹس، 196 پیرا میڈیکس اسٹاف درکار ہے، دل، شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریض اہل نہیں ہوں گے۔طبی عملے کے طور پر جانے کے خواہشمند امیدوار کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کا فٹنس سرٹیفکیٹ بھی جمع کروانا ہوگا، حج مشن میں درخواست کل تک دی جا سکتی ہے، امیدواروں کا این ٹی ایس کے ذریعے ٹیسٹ لیا جائے گا۔وزارت مذہبی امور کے مطابق میڈیکل حج مشن کے لیے کم ازکم تین سال کا سرکاری سروس تجربہ لازمی ہے، ریٹائرڈ اہلکار میڈیکل حج مشن کے لیے نااہل ہوں گے، صرف حاضر سروس اہلکار طبی عملے کے لیے اہل ہوں گے۔منتخب افراد حج کے دوران سعودی عرب میں ڈیوٹیاں سرانجام دیں گے، میڈیکل مشن کی تعیناتی وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت ہو گی، خواتین میڈیکل اسٹاف کے لیے 30 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔