موضوع: رہبر معظم کا کھلاڑیوں اور نوجوانوں سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں
پروگرام دین ودنیا
موضوع: رہبر معظم کا کھلاڑیوں اور نوجوانوں سے خطاب
مہمان: حجہ الاسللام و المسلمین جناب جری حیدر صاحب
میزبان: محمد سبطین علوی
پیش کش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
موضوعات گفتگو:
سافٹ وار کی اہمیت
جوانوں کے اذہان پر تسلط کے مختلف طریقے
مشرق وسطی کے بارے میں ٹرمپ کی بکواسیات اور رھبر کا تجزیہ
غزہ جنگ کا شریک جرم امریکہ
خلاصہ گفتگو: موجودہ دور میں سافٹ وار کی اہمیت انتہائی بڑھ چکی ہے۔ اب دشمن طاقت کے زور پر نہیں بلکہ میڈیا، ثقافت، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اقوام کے ذہنوں اور عقائد پر قبضہ کرتا ہے۔ یہ جنگ ایمان، فکر اور دینی اقدار کو کمزور کرنے کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ اس کے مقابلے کے لیے ضروری ہے کہ ہم فکری بیداری، دینی بصیرت اور ثقافتی استقامت کو مضبوط بنائیں۔
آیتالله خامنہای میں کہا گیا کہ امریکہ حقیقی دہشتگرد ہے، اور ٹرمپ کا ایرانی عوام سے دوستی کا دعویٰ سراسر جھوٹ ہے کیونکہ امریکی پابندیاں خود ملتِ ایران کے خلاف ہیں۔ آپ نے کہا کہ ٹرمپ کی “معاملے” کی بات دراصل زور زبردستی اور تحمیل ہے، جسے ایرانی قوم ہرگز قبول نہیں کرے گی۔ مزید فرمایا کہ مغربِ ایشیا کی جنگوں اور بدامنی کا اصل سبب خود امریکہ ہے، جس کی فوجی موجودگی اور تسلط اس خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔