آزادکشمیر کی بیوروکریسی میں اہم تبادلے
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
سٹی 42: صدر آزاد جموں و کشمیر کی منظوری سے آزادکشمیر کی بیوروکریسی میں اہم تبادلے کردیے گئے ۔
تعلیم، توانائی اور قانون کے شعبوں میں تبادلے کیے گیے ہیں۔ سید شاہد محی الدین قادری سیکرٹری محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن تعینات ہوئے ، مسٹر ارشاد احمد قریشی سیکرٹری محکمہ قانون، انصاف و انسانی حقوق تعینات جبکہ مسٹر ظفر محمود خان پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعظم تعینات، اضافی چارج سیکرٹری مواصلات و تعمیرات عامہ ہوگا۔
جے یو آئی کا بلدیاتی انتخابات میں بھرپور شرکت کرنے کا فیصلہ
مسٹر محمد طیب سیکرٹری محکمہ توانائی و آبی وسائل تعینات،مسٹر امتیاز احمد سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن تعینات،محترمہ تہذیب النساء سیکرٹری محکمہ ہائیر ایجوکیشن تعینات ہوئیں جبکہ مسٹر عنایت علی سیکرٹری سپورٹس، یوتھ اینڈ کلچر تعینات کیے گئے ۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔