امریکی صدر کا ایٹمی تجربے کی آغاز کی دھمکی؛ روس نے بھی خبردار کردیا؛ اہم بیان
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے کے اعلان پر روس نے شدید ردعمل دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس نے وضاحت دی ہے کہ ہم نے 1990 کے پہلے ایٹمی دھماکے کے بعد سے تاحال ایٹمی ہتھیاروں کا کوئی تجربہ نہیں کیا۔
روس نے خبردار کیا کہ البتہ، اگر امریکا عالمی پابندی توڑتا ہے اور ایٹمی تجربہ کرتا ہے تو ہم بھی جوابی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس کے حالیہ ڈرون اور میزائل تجربات ایٹمی نہیں تھے بلکہ صرف ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں کے نظام کی آزمائش تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو روس کے حالیہ تجربات کے بارے میں درست بریفنگ دی گئی ہوگی کیونکہ ان تجربات کو کسی بھی صورت میں ایٹمی تجربہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پلیٹ فارم پر لکھا تھا کہ دیگر ممالک کے ایٹمی پروگراموں کو دیکھتے ہوئے میں نے فوج کو ایٹمہ ہتھیاروں کے تجربات شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ میں نے خیہ اص طور پر چین اور روس کے بڑھتے ہوئے ایٹمی پروگراموں کے تناظر میں دیا کیوں کہ حوالہ چین آئندہ 5 سال میں امریکا کے برابر آ جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔