دہلی لال قلعہ دھماکا: عینی شاہدین اور سرکاری بیانیے میں تضاد، اصل سچ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
بھارتی دارالحکومت لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ہونے والے کار دھماکے میں 8 افراد جاں بحق اور 24 سے زائد زخمی ہو گئے، جس کے بعد ملک بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے اور کئی سوالات نے جنم لیا ہے۔
تاہم واقعے کے بعد سامنے آنے والی مختلف معلومات نے عینی شاہدین کے بیانات اور سرکاری مؤقف میں نمایاں تضادات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: نئی دہلی: لال قلعہ میٹرو اسٹیشن قریب گیس سلنڈر کا دھماکا، 9 افراد ہلاک، متعدد زخمی
گاڑی سوزوکی ماروتی یا ہنڈائی آئی20؟عینی شاہدین کے مطابق دھماکے والی گاڑی سوزوکی ماروتی تھی۔ ایک مقامی شخص نے ویڈیو بیان میں بتایا کہ اُس نے ملبے سے لاشیں نکالنے میں مدد کی اور واضح طور پر کہا کہ گاڑی ماروتی کی تھی۔
ابتدائی رپورٹس میں بھی یہی کہا گیا، لیکن بعد میں سرکاری اداروں نے مؤقف اپنایا کہ دھماکہ ہنڈائی آئی20 میں ہوا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ امیت شاہ کے مطابق یہ ہنڈائی آئی20 کا دھماکا تھا، اور این آئی اے و این ایس جی نے تحقیقات سنبھال لی ہیں۔
تاہم اب تک سی سی ٹی وی فوٹیج جاری نہیں کی گئی، جس سے شکوک مزید گہرے ہو رہے ہیں۔
ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ گاڑی کے کاغذات ندیم نامی شخص (فرید آباد، ہریانہ) کے نام پر تھے۔
کچھ ذرائع کے مطابق ایک شخص سلمان نے گاڑی فروخت کی تھی، لیکن رجسٹریشن اب بھی اسی کے نام تھی۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت دہشتگردی میں ملوث، کوئی تیسرا ملک پہلگام اور جعفر ایکسپریس سانحہ کی تحقیقات کرے، پاکستان
تاہم بعد میں میڈیا نے خبر دی کہ گاڑی آخر کار طارق (پلوامہ، جموں و کشمیر) کے قبضے میں تھی، جس سے فوری طور پر “دہشت گردی” کا تاثر جوڑا گیا۔
اس اچانک تبدیلی نے مزید ابہام پیدا کیا ہے کہ مالک کی شناخت میں اتنی تیزی سے تبدیلی کیوں اور کیسے ہوئی؟
دھماکے کی نوعیتابتدائی عینی شاہدین نے امکان ظاہر کیا کہ یہ سی این جی سلنڈر کا دھماکہ ہو سکتا ہے، نہ کہ بم حملہ۔
تاہم فوراً بعد مرکزی میڈیا نے اسے “دہشت گردی” قرار دینا شروع کر دیا، جب کہ فارنزک رپورٹ ابھی جاری نہیں ہوئی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ گاڑی میں موجود تمام افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جس سے بعض مبصرین نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ دہشت گردی تھی تو حملہ آور کیوں نہیں فرار ہوئے؟
یہ بھی پڑھیے: بھارتی فوج کی تازہ ریاستی دہشتگردی، ضلع کپواڑہ میں 2کشمیری نوجوان شہید
دھماکے کے فوراً بعد ماڈل اور مالک کی تفصیلات کیوں بدلتی رہیں؟ سی سی ٹی وی فوٹیج اب تک منظر عام پر کیوں نہیں آئی؟ کیا یہ واقعہ کسی سیاسی مہم یا خوف کی فضا پیدا کرنے کا ذریعہ تو نہیں بنایا جا رہا؟
8 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، 24 سے زائد زخمی ہیں، اور درجنوں خاندان صدمے میں ہیں۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں، تاکہ سیاست نہیں بلکہ انصاف غالب آئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت دہشتگردی نیو دہلی دھماکا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت دہشتگردی عینی شاہدین کہ گاڑی
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔