کپواڑہ ، بھارتی فوج کے ہاتھوں 2 کشمیری نوجوان شہید، تلاشی آپریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
(فائل فوٹو)
سرینگر:۔ بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع کپواڑہ میں 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوانوں کو ہفتہ کو علی الصبح ضلع کپواڑہ کے علاقے کیرن میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران جعلی مقابلے میں شہید کیا۔ قابض بھارتی فوجیوں نے علاقے میں تلاشی آپریشن گزشتہ روز(جمعہ کو ) شروع کیا تھا۔
ادھر بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے ضلع گاندربل میں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کر دیا۔بھارتی فوجیوں ، پیرا ملٹر ی اور پولیس اہلکاروں نے ضلع کے مختلف علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے اور آزادی پسند کشمیریوں کو نشانہ بنایا۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ فورسز اہلکاروں نے کم از کم 59مقامات پر چھاپے مارے اور تلاشی لی۔آخری اطلاعات تک قابض بھارتی فورسز کا آپریشن جاری تھا۔
یاد رہے کہ بھارت نے کالے قانون آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کے تحت فورسز کو آزادی کی جدوجہد میں مصروف کشمیریوں کو قتل کرنے اور جبر استبداد کے دیگر ہتھکنڈوں کا نشانہ بنانے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے ۔ بے لگام بھارتی فورسزاہلکاروں نے 1989ءسے اب تک 96ہزار 476کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔آج تک کسی بھی مجرم بھارتی فوجی کو سزا نہیں دی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔