data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد میں باخبر ذرائع کے مطابق آئین میں 27ویں ترمیم کے نفاذ کے بعد عدلیہ کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں، جن میں ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلوں سے متعلق نئے اصول شامل ہوں گے۔ اس ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ہائی کورٹ کے ججوں کو ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں ان کی رضامندی کے بغیر بھی منتقل کر سکے۔

ذرائع کے مطابق، بعض جج اپنی مدتِ ملازمت پوری کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم اس بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ ترمیم کے مکمل طور پر نافذ ہونے کے بعد ہی اس حوالے سے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کی ضرورت ان خدشات کے پیشِ نظر محسوس کی گئی کہ چند ججوں کے رویے سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوئی۔ نئی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن کے اختیارات میں اضافہ ہوگا، جبکہ مستقبل میں مجوزہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے لیے بھی مختلف ناموں پر غور جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق، عدالتی اور سیاسی حلقوں کے درمیان مشاورت کا عمل جاری ہے تاکہ ججز کی تقرری اور تبادلوں سے متعلق ایک واضح نظام تشکیل دیا جا سکے جو ادارہ جاتی استحکام اور شفافیت کو یقینی بنائے۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ترمیم کے کے بعد

پڑھیں:

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس

چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

مزید پڑھیں

مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن