عالمی برادری کی اسلام آباد کچہری میں خود کش حملے کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
عالمی برادری نے اسلام آباد کچہری میں خود کش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ایرانی سفارتخانے نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ دہشتگردی بزدل عناصر کی خطرناک سازش ہے، یہ سازش خطے کو غیر مستحکم کرنے اور خطے کی پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانی پاکستان کے غدار، فوری نکالا جائے، اسلام آباد حملے کے زخمیوں کا ردعمل
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس خطرناک رجحان کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک مشترکہ کوششیں کریں، غم کی گھڑی میں پاکستانی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
ترک وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں خود کش حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ترکیہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
’دھماکہ قابلِ مذمت اور انسانیت دشمن عمل ہے‘اسلام آباد میں قائم چینی سفارتخانے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں دہشتگردی کے واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور متاثرین کے اہلِ خانہ، حکومت اور عوام سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں، زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔
چینی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ دھماکہ قابلِ مذمت اور انسانیت دشمن عمل ہے۔
ہر قسم کا تشدد اور دہشتگردی سختی سے مستردقطر نے بھی اسلام آباد میں خود کش حملے اور وانا میں دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ قطر ہر قسم کے تشدد اور دہشتگردی کو سختی سے مسترد کرتا ہے، متاثرین کے اہلِ خانہ، حکومت اور عوام سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں۔
’اس حملے اور ہر قسم کی دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہیں‘امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، انہوں نے دھماکے میں جاں بحق اور زخمی افراد کے لواحقین سے ہمدردی اور اظہارِ تعزیت کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں خود کش دھماکا، وانا کیڈٹ کالج پر بھی وار، آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟
نیٹلی بیکر کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں، اس حملے اور ہر قسم کی دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت کی امن اور استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہیں۔
آسٹریلوی ہائی کمیشن کی مذمتدوسری جانب آسٹریلوی ہائی کمشنر نے بھی اسلام آباد خود کش حملے پر پاکستان سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے اور دھماکے کے متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا ہے۔
آسٹریلوی ہائی کمیشن نے عوام کے تحفظ کے لیے سرگرم اداروں اور اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد میں مذمت کرتے ہیں میں کہا دہشتگردی کے خود کش حملے سے اظہار کی شدید کے لیے کیا ہے
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر