عدالتوں پر حملہ پاکستان پر وار، دہشتگردی کے معاملے پر سیاست نہیں کی جائےگی، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے معاملے میں کوئی سیاست نہیں کی جائےگی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکا، 12 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عدالتوں پر حملہ دراصل پورے پاکستان پر حملہ ہے اور وہ تمام سیکیورٹی اداروں کو یقین دلاتے ہیں کہ دہشتگردی کے موضوع پر سیاست نہیں ہوگی۔
بیرسٹر گوہر کا اسلام آباد خودکش دھماکے کے مقام کا دورہ pic.
— PTI (@PTIofficial) November 11, 2025
بیرسٹر گوہر نے مزید کہاکہ دشمن نے ہماری عبادت گاہوں اور عدالتی اداروں کو نشانہ بنایا، اور جہاں بھی دھماکہ ہوگا اسے پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہاکہ جس طرح مئی 2025 میں دشمن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، اسی طرح اس بار بھی دشمن کو ناکامی ہوگی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کی ضلعی کچہری کے باہر خود کش دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں بھارت نواز اور افغان طالبان کی پشت پناہی کے حامل فتنہ الخوارج کا خودکش دھماکا
اس کے علاوہ گزشتہ روز کیڈٹ کالج وانا میں خود کش حملہ ناکام بناتے ہوئے سیکیورٹی فورسز نے 2 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ کالج کی عمارت میں موجود 3 دہشتگردوں کو محصور کرکے ان کے خلاف آپریشن جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسلام آباد دھماکا بیرسٹر گوہر چیئرمین پی ٹی آئی دہشتگردی ناسور وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد دھماکا بیرسٹر گوہر چیئرمین پی ٹی ا ئی دہشتگردی وی نیوز بیرسٹر گوہر اسلام آباد پر حملہ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔