افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کے ناقابلِ تردید شواہد ایک بار پھر سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کے ناقابلِ تردید شواہد ایک بار پھر سامنے آگئے۔
30 ستمبر 2025 کو فرنٹیرکورہیڈکوارٹر (نارتھ) کوئٹہ پر خودکش حملہ میں ملوث دوسرا حملہ آور افغان دہشتگرد نکلا.سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج کےافغان خودکش حملہ آور کی شناخت محمد سہیل عرف خباب کے نام سے ہوئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد سہیل عرف خباب افغانستان کے صوبہ وردک کے ضلع میدان شہر کا رہائشی تھا، کوئٹہ، ایف سی ہیڈکوارٹر(نارتھ) حملہ میں 8 شہری شہید اور 40 زخمی ہوئے تھے۔ ایف سی ہیڈکوارٹرنارتھ (کوئٹہ) پرحملہفتنہ الخوارج کے افغان دہشت گردوں کی تازہ ترین شرمناک مثال ہے۔افغان طالبان رجیم کی عہد شکنی اور دہشتگردوں کی مسلسل پشت پناہی پوری خطہ کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔