وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کیخلاف مقدمہ درج، ریاستی اداروں کیخلاف گمراہ کن ویڈیوز کے ابلاغ کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا ایکٹ) کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
یہ مقدمہ ایک شہری کی شکایت پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر اسلام آباد میں درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق سہیل آفریدی پر الزام ہے کہ انہوں نے ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹے، گمراہ کن اور بے بنیاد بیانات پر مشتمل ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلائیں۔
مزید کہا گیا کہ ان ویڈیوز میں قومی سلامتی کے اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ریاستی اداروں کے خلاف متنازع بیانات دیے، جنہیں بعد ازاں پی ٹی آئی کے آفیشل پیج سے بھی شیئر کیا گیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق مقدمہ پیکا ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، اور اس میں ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مواد کی اشاعت کو جرم قرار دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ریاستی اداروں کے خلاف
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔