اسلام آباد (وقائع نگار+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم پر صدر مملکت، نواز شریف اور اتحادی جماعتوں کے سربراہان و اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی عدالتوں کے قیام سے بے نظیر کی روح  آج بہت خوش ہوگی۔ 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ایوان نے قومی اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کیا، تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔  ہمارے دیرینہ دوست عرفان صدیقی انتقال کرگئے۔ وہ استادوں کے استاد تھے، درس و تدریس میں زندگی گزاری اور جب سیاست میں آئے تو پوری ذمہ داری کے ساتھ (ن) لیگ و نواز شریف کے ساتھ وفا نبھائی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وانا میں خوارج نے دہشت گردی کا بازار گرم کرنے کی مذموم حرکت کی اور سانحہ اے پی ایس کی یاد تازہ کردی۔ خوارج جن میں بدقسمتی سے افغانستان کے لوگ بھی شامل تھے، تمام کے تمام جہنم رسید ہوئے اور تمام کیڈیٹس ٹیچر، طلباء کو بحفاظت نکالا گیا۔ اس کامیاب آپریشن پر پوری قوم کو مبارکباد، افواج کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ فورسز نے پیشہ ورانہ انداز سے کارروائی کی اور بڑے نقصان سے بچایا۔ اسلام آباد میں کچہری کے باہر دہشت گردی کا واقعہ اندوہناک ہے، جس میں جوڈیشل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔ اللہ تمام شہداء کو جنت میں جگہ اور زخمیوں کو مکمل شفا عطا فرمائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان دونوں اور دہشت گردی کے دیگر واقعات میں خارجی ہاتھ نمایاں ہے۔ ٹی ٹی پی، بی ایل اے افغانستان سے متحرک ہیں اور ان کے بھارت کے ساتھ بھی روابط ہیں۔ سانحہ جعفر ایکسپریس سمیت دیگر شواہد کو ہم نے دنیا کے سامنے پیش کیا تو کسی نے بھی ان حقائق کو کسی جگہ چیلنج نہیں کیا۔ خارجیوں کو دہشت گردی سے نہ جوڑنا ایسے ہے جیسے دن کو رات اور رات کو دن کہا جائے کیونکہ ان کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ خارجی عناصر کی حرکتوں کا ہمیں پورا علم ہے۔ پہلے بھی منہ توڑ جواب دیا اور اب بھی دیں گے اور انہیں پاکستان کے امن اور ترقی و خوشحالی میں حائل نہیں ہونے دیں گے۔ دوحہ، استنبول میں افغان عبوری حکومت سے مذاکرات ہوئے، جس میں پاکستان شریک تھا اور ہم نے ایک ہی اپنا دیرینہ مطالبہ دہرایا کہ عبوری افغان حکومت اپنی سرزمین پر موجود ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو روکے۔ ہم چاہتے ہیں امن قائم ہو۔ افغانستان اس بات پر بھی متفق ہو اور پاکستان کے ساتھ امن میں برابر شریک ہوجائے۔ ہم جانتے ہیں پاکستان اور افغانستان کیلئے کیا بہتر ہے۔ جھوٹے سچے وعدوں کے بعد  دہشت گردوں کو لگام نہ دی جائے تو یہ ہم کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج چالیس سال کی مہمان نوازی کا صلہ ہمیں جو دیا جارہا ہے وہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ وزیراعظم نے افغان عبوری حکومت کو پیش کش کی کہ آئیں، صدق دل سے بیٹھے اور دہشت گردوں کو لگام دیں، ہم پوری طرح آپ کے ساتھ چلیں گے، خطے میں امن قائم ہو تاکہ ترقی اور خوش حالی ہو۔ آئینی ترمیم کی منظوری پر صدر مملکت کا خصوصی شکریہ، نواز شریف یہاں آئے اور کارروائی میں شریک ہوئے۔ بلاول بھٹو، خالد مقبول، چوہدری سالک حسین، عبدالعلیم خان، خالد مگسی، اعجاز الحق، اے این پی کے ایمل ولی اور حلیف جماعتوں کے تمام اراکین کا شکریہ جنہوں نے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیئے۔ شہباز شریف نے کہا کہ اسحاق ڈار، اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، سیکرٹری قانون، سپیکر اور تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آئینی ترمیم پر بھرپور مشاورت ہوئیں۔ یہ ترامیم اب آئین کا حصہ بن گئیں ہیں۔ میثاق جمہوریت میں واضح آئینی عدالت کا لکھا تھا۔ آج 19 سال بعد یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ بے نظیر کی روح کو تسکین مل رہی ہو گی۔ اللہ نے آج نواز شریف کو بھی سرخرو کیا۔ آئینی عدالت کا معرض وجود میں آنا میثاق جمہوریت کی عروج ہے۔ آج اپوزیشن کو 19 سالوں میں آئینی عدالت کے حوالے سے یاد نہ آیا، آج انہیں یہ کورٹ تکلیف دے رہی ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں اختلاف اپوزیشن کا حق ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ تاہم گالی گلوچ اور الزام تراشی کو ختم کرنا ہوگا۔ ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سب کو ملکر کام کرنا ہوگا۔ معرکہ حق کی عظیم فتح اور سفارتی محاذ پر ناکامی کے بعد مودی آج بھی بے بسی کا شکار ہے۔ ایسے میں ہمیں قومی یکجہتی اور اتحاد کو فروغ دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا شکریہ، جنہوں نے بھرپور معاونت کی اور کورٹس نے فیصلے کیے اور قومی خزانے میں اربوں روپے آچکے ہیں۔ یحییٰ آفریدی نیک نام چیف جسٹس ہیں، شخصیت اور کارکردگی شاندار ہے، ان کی مدد ملی اور اس فورم سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہی آئینی عدالت اور اداروں کی سربراہی کرتے رہیں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معرکہ حق کی شاندار کامیابی کے بعد کسی بھی ملک کے سربراہ پانچ قدم آگے چل کر استقبال کرتے ہیں۔  یہ عزت اللہ نے ہمیں عطا کی۔ یہ جرأت، اخلاق، اللہ پر اعتماد، فجر کے وقت دعا مانگنے اور بہادری کا نتیجہ ہے کہ پاکستان سفارتی اور عسکری محاذ پر دہائیوں میں وہ عزت نصیب نہیں کرسکا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا تو اسے پوری قوم نے سراہا، جس کو آج آئین کا حصہ بنادیا ہے۔  فیلڈ مارشل کا عہدہ صرف بری نہیں بلکہ بحری اور فضائی سربراہان کیلئے بھی ہے۔ صوبے مضبوط ہوں تو وفاق مضبوط ہوگا۔ چار اکائیاں مل کر ہی پاکستان بنتا ہے۔ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ اٹھارہویں ترمیم یا این ایف سی میں بغیر مشاورت کے کوئی تبدیلی کی جائے۔ صوبوں کی ترقی سے ہمیں خوشی ہے۔ پاکستان اور وفاق کو مضبوط کرنے والی چیز کے ساتھ ہوں۔ یہ نقطہ نظر سالوں سے ہے۔ وفاق کو کمزور کرنے والی چیز کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو وہ وفاق کیلئے اچھی نہیں ہے۔ کالا باغ ڈیم شاندار معاشی منصوبہ ہے مگر اس سے وفاق کمزور ہوگا تو 100 کالا باغ ڈیم بھی ہوں مگر میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔ فوج اور رینجرز کے اخراجات وفاق برداشت کرتا ہے مگر ہم اس معاملے پر علیحدہ بیٹھیں گے اور اس پر بات کریں گے اور اتفاق نہ ہوا تو پھر کوئی بات نہیں ہے۔ یہاں ان کا اشارہ اخراجات کی ادائیگی صوبوں کی طرف تھی۔ شہباز شریف نے کہا کہ بیٹھ کر بے شمار معاملات کو طے کرنا ہے، جیسے کسٹم ڈیوٹی صوبوں کے پاس جمع ہونے کا ذکر آئین میں نہیں بلکہ اس حوالے سے صدارتی آرڈیننس جاری ہوا، ہمیں دکھوں اور سکھوں کو ملکر لے کر چلنا اور انہیں ختم کرنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شکریہ ادا کرتا ہوں شہباز شریف نے کا شکریہ ادا آئینی عدالت نواز شریف نے کہا کہ کے ساتھ ہوں نے کے بعد

پڑھیں:

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف

تصویر سوشل میڈیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔

وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔ 

اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔  

شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ 

اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ 

اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔  

وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ 

اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔ 

بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری