20 لاکھ روپے قرض کی واپسی کا تقاضہ کرنے والا شہری بہیمانہ طریقے سے قتل
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
شہر قائد کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں اندوہناک واقعہ پیش آیا جس میں 20 لاکھ قرض واپس مانگنے والے شخص کو بہیمانہ طریقے سے قتل کردیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس نے گھر سے ایک شخص کی تشدد زدہ لاش برآمد کی، مقتول کو 20 لاکھ روپے قرض واپس دینے کے لیے بلایا گیا تھا۔
پولیس نے گھر سے خاتون اور بچے سمیت 5 افراد کو حراست میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 45 سالہ عامر قریشی کے نام سے کی گئی جسے تشدد اور ہتھوڑے کے وار سے قتل کیا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر واقعہ فائرنگ سے پیش آنے کا بتایا جا رہا تھا تاہم مقتول کے جسم پر گولی کا کوئی نشان نہیں ملا۔ مقتول شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے السید سینٹر کا رہائشی تھا اور جس گھر سے مقتول کی لاش ملی ہے اس شخص سے مقتول کا لین دین کا تنازع چل رہا تھا۔
پولیس کے مطابق مقتول کو 20 لاکھ روپے کی رقم دینے کے بہانے بلایا گیا تھا جسے تشدد اور ہتھوڑے کے وار سے قتل کیا گیا اور اس کی لاش ملزم نے اپنے دیگر 2 ساتھیوں کے ہمراہ گھگھر پھاٹک کے قریب پھیکنے کی منصوبہ بند کی ہوئی تھی۔
ملزم نے مقتول کی کار کو بھی چھپا کر اغوا کا ڈرامہ رچایا تھا جبکہ پولیس شام سے مقتول کو سرگرمی سے تلاش کر رہی ہے تھی۔
پولیس نے ملزم کے گھر کے باہر لگے کیمروں کی فوٹیجز چیک کی تو پولیس کو شک ہوا اور جب گھر کی تلاشی لی تو مقتول عامر کی تشدد زدہ لاش ملی جبکہ پولیس نے آلہ قتل بھی برآمد کرلیا۔
تاہم پولیس نے گھر میں موجود خاتون اور ایک بچے سمیت 5 افراد کو حراست میں لیکر تھانے منتقل کر دیا اور اس حوالے سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔