ایران کی پاکستان اور افغانستان کے درمیاں ثالثی کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران نے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ثالثی و مصالحت کی پیشکش کردی ہے۔
میڈیارپورٹ کا کہناہے کہ سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ ایران مصالحت کے لیے ہر ممکن مدد کو تیار ہے۔ ٹیلی فون پر اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی اوربین الاقوامی امورپرتبادلہ خیال کیا۔
ایرانی وزیرخارجہ نے پاکستان اورافغان طالبان کےدرمیان ثالثی ومصالحت کی پیشکش کی اور دونوں ممالک کے قدیم اور دوستانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے افغانستان اورپاکستان کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا بھی اظہار کیا گیا۔ ایرانی وزیرخارجہ نے زور دیا کہ دونوں ممالک کوبات چیت جاری رکھنی چاہیے۔ ایرانی وزیرخارجہ نےکہا کہ ایران ہرممکن مددکے لیے تیار ہے تاکہ دونوں ممالک میں امن ومصالحت قائم ہوسکے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار نے ٹیلی فونک گفتگو میں افغانستان کے ساتھ حالیہ مذاکرات اور موجودہ حالات پر روشنی ڈالی۔ اسحاق ڈار نےکہا کہ علاقائی امن واستحکام کا برقرار رہنا نہایت اہم ہے۔ فریقین نے اس معاملے پر رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایرانی وزیر اسحاق ڈار
پڑھیں:
پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔