ترکیہ کے بغیر پائلٹ والے ’لڑاکا طیارے‘ نے پہلی بار فضائی ہدف تباہ کرکے تاریخ رقم کردی
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
ترکیہ کے پہلے بغیر پائلٹ لڑاکا طیارے کِزِل ایلما نے عالمی سطح پر تاریخ رقم کرتے ہوئے پہلی بار گُک دُوغان ایئر ٹو ایئر میزائل کو جٹ طیارے کے ہدف پر کامیابی سے فائر کیا، جو کسی بھی بغیر پائلٹ جنگی طیارے کی پہلی تصدیق شدہ فضائی لڑاکا کامیابی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ترکی کی دفاعی کمپنی بائیکر نے بتایا کہ گُک دُوغان میزائل نے ہدف کو ایسلسان کے تیار کردہ موراد ریڈار کی مدد سے نشانہ بنایا۔
یہ پہلا موقع تھا کہ ترکیہ کے قومی جنگی پلیٹ فارم نے مقامی طور پر تیار شدہ میزائل کو ملکی ریڈار کی گائیڈنس میں فضائی ہدف پر داغ کر کامیابی حاصل کی۔
اس کامیابی کے ساتھ کِزِل ایلما دنیا کا واحد بغیر پائلٹ لڑاکا طیارہ بن گیا ہے جس کی فضائی جنگی صلاحیت باقاعدہ طور پر ثابت ہو گئی ہے۔ ٹیسٹ مشن کے دوران مرزیفون ایئر بیس کے پانچ ایف-15 لڑاکا طیاروں نے کِزِل ایلما کے ساتھ مشترکہ آپریشن کیا، جبکہ بائیکر آکِن جی نے پورے ٹیسٹ کو فضا سے ریکارڈ کیا۔
کِزِل ایلما کے جدید سینسرز، اسٹیلتھ ڈیزائن اور کم ریڈار دِکھائی دینے والی ساخت اسے دشمن کے طیاروں کا دور سے پتہ لگانے اور خود کو نظر آنے سے بچانے کی صلاحیت دیتے ہیں۔
View this post on InstagramA post shared by Bazaar Times (@bazaartimes)
طیارے میں موراد ریڈار، ٹوئی گن نشانہ سسٹم اور مختلف مقامی ہتھیار نصب کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل کیے گئے تجرباتی مشنز میں کِزِل ایلما نے تولن اور تیبر-82 ہتھیاروں کے ساتھ بھی درست نشانہ لگایا تھا۔
بائیکر نے 2003 سے بغیر پائلٹ فضائی ٹیکنالوجی میں اپنی سرمایہ کاری جاری رکھی ہے اور عالمی ڈرون مارکیٹ میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ کمپنی نے 2023 اور 2024 میں ہر سال 1.
بائیکر اب تک بائراکتار ٹی بی-2 کے لیے 36 اور بائراکتار آکِن جی کے لیے 16 ممالک کے ساتھ ایکسپورٹ معاہدے کر چکا ہے، جب کہ وہ گزشتہ چار سال سے ترکیہ کا سب سے بڑا دفاعی و ایرو اسپیس ایکسپورٹر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ک ز ل ایلما بغیر پائلٹ کے ساتھ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔