یکم جنوری سے اضافی ایل این جی عالمی مارکیٹ میں بیچنا شروع کریں گے‘ وزیر پیٹرولیم
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اتوار کو کہا ہے کہ پاکستان یکم جنوری سے اضافی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بین الاقوامی منڈیوں میں بیچنا شروع کر دے گا۔ علی پرویز ملک کا یہ بیان لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران آیا، جبکہ چند ماہ قبل یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ پاکستان اضافی ایل این جی کارگوز بیچنے کے طریقے تلاش کر رہا تھا، کیوں کہ گیس کی فراہمی میں زیادتی کے باعث مقامی پیدا کنندگان کو سالانہ لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا ہو رہا تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ہمارے دوست قطر اور اطالوی توانائی کمپنی اینی سے گیس درآمد کر رہا تھا، لیکن، اس درآمد شدہ گیس کی فراہمی میں اضافے کی وجہ سے گزشتہ چند ماہ میں ملک میں توانائی کی پیداوار کے لیے اس ایندھن کا استعمال کم ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نتیجتاً، ہمیں اسے گھریلو صارفین کو فراہم کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جس کے نتیجے میں گیس کے شعبے میں گردشی قرضہ بڑھ رہا تھا، اس سے 19-2018 سے اب تک پاکستان کو تقریباً ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکم جنوری سے ہم یہ اضافی ایندھن بین الاقوامی منڈیوں میں بیچیں گے اور اپنے بوجھ کو کم کریں گے، جبکہ اس کے باعث ہونے والے نقصانات کو محدود کریں گے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کے ریاستی ملکیتی اداروں کو مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کرنے اور منافع کمانے کا موقع دے گا۔ پریس کانفرنس کے دوران علی پرویز ملک نے پیٹرولیم کے شعبے میں غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے متوقع سرمایہ کاری کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ترکی کے وزیر توانائی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کر کے گئے تھے اور 20 سال بعد ترک پیٹرولیم، پاکستانی کمپنیوں کے تعاون سے آن شور اور آف شور تلاش کے کاموں میں حصہ لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ترک پیٹرولیم اسلام آباد میں اپنا دفتر بھی کھولے گی، جہاں 10 سے 15 ترک شہری کام کریں گے، پاکستانیوں کو بھی وہاں روزگار ملے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم درآمدی تیل اور گیس پر انحصار کم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ رہا تھا کریں گے
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار