— تصویر بشکریہ رپورٹر

فرانسیسی سفارتخانے نے سندھ طاس کے فرانسیسی آثار قدیمہ کے مشن (MAFBI) کے تعاون سے 2 تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔

مذکورہ تقریبات سندھ کے چنوں دڑو میں آثار قدیمہ کی کھدائی کی 10ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئیں جو کہ فرانسیسی و پاکستانی تعاون کی تاریخ میں ایک قابل ذکر سنگ میل ہے۔

پہلی کانفرنس ٹیکسلا انسٹی ٹیوٹ آف آرکیالوجی اینڈ سولائزیشنز (TIAC)، قائداعظم یونیورسٹی میں منعقد ہوئی۔ TIAC کی کامل تنظیم اور بھرپور پروگرام کو اس سائنسی کانفرنس میں شرکت کرنے والے تمام طلبہ اور پروفیسرز نے سلام پیش کیا۔

منگل کو منعقدہ دوسرے پروگرام میں پاکستانی اور فرانسیسی ماہرین کو ایک وسیع بحث کے لیے اکٹھا کیا۔ سیشن کا آغاز پاکستان میں فرانسیسی سفیر ایچ ای نکولس گیلی اور حکومت پاکستان کے محکمہ آثار قدیمہ اور عجائب گھر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر امان اللّٰہ نے کیا۔

ایم اے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اورور ڈیڈیئر نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف نوادرات اور آثار قدیمہ کے تعاون سے چنوں دڑو میں ایک دہائی کی کھدائی میں دریافت ہونے والے نمونے پیش کی جبکہ ڈاکٹر مرجان مشکور نے حیاتیاتی تحقیق اور تربیتی پروگرامز کے بارے میں بتایا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک