پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کر دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
پنجاب میں دھرنوں، اجتماع اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی ہوگی۔ 4 یا 4 زائد افراد کے عوامی مقامات پر جمع ہونے پر مکمل پابندی ہوگی۔ پنجاب بھر میں ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ دفعہ 144 کے تحت لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔ اشتعال انگیز، نفرت آمیز یا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت و تقسیم پر مکمل پابندی ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ داخلہ نے دفعہ 144 کے نفاذ میں 8 یوم کی توسیع کر دی ہے۔ پنجاب میں ہر قسم کے احتجاج، جلسے جلوس، ریلیوں پر پابندی عائد رہے گی۔ پنجاب میں دھرنوں، اجتماع اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی ہوگی۔ 4 یا 4 زائد افراد کے عوامی مقامات پر جمع ہونے پر مکمل پابندی ہوگی۔ پنجاب بھر میں ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ دفعہ 144 کے تحت لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔ اشتعال انگیز، نفرت آمیز یا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت و تقسیم پر مکمل پابندی ہوگی۔
دفعہ 144 میں توسیع کا فیصلہ امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کیلئے کیا گیا ہے۔ کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے 39ویں اجلاس میں توسیع کی سفارش کی گئی تھی۔ پنجاب حکومت نے دہشتگردی اور امن عامہ کے خدشات کے پیش نظر احکامات جاری کیے۔ پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، جنازہ اور تدفین پر نہیں ہوگا۔ سرکاری فرائض کی انجام دہی پر موجود افسران و اہلکار،عدالتیں پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ ترجمان محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ لاؤڈ سپیکر صرف اذان اور جمعہ کے خطبہ کیلئے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ محکمہ داخلہ نے یکم نومبر تک دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پر مکمل پابندی ہوگی دفعہ 144 کے
پڑھیں:
مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
فوٹو: فائلکفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔