پاکستانی کھلاڑیوں کو بگ بیش لیگ کھیلنے کی اجازت، کرکٹ آسٹریلیا کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو ٹوڈ گرین برگ نے کہا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو بگ بیش لیگ (بی بی ایل) کھیلنے کی باضابطہ اجازت مل گئی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے کھلاڑیوں کو بی بی ایل میں شرکت کے لیے کلئیر کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے تفصیلات گزشتہ ہفتے ہی طے پا گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایشیا کپ ٹرافی تنازع شدت اختیار کر گیا، محسن نقوی کی ویڈیو پر بھارت برہم
ٹوڈ گرین برگ کے مطابق ہم بہت پرجوش ہیں کیونکہ پاکستان کے بہترین کھلاڑی لیگ کا حصہ ہیں، اور ہم انہیں اس سیزن میں ایکشن میں دیکھنے کے منتظر ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے حال ہی میں غیر ملکی لیگز کے لیے قومی کرکٹرز کے این او سی عارضی طور پر روک دیے تھے، تاہم جن کھلاڑیوں کے پاس پہلے سے این او سی موجود تھا، انہیں بی بی ایل کھیلنے کی اجازت دے دی گئی۔
میڈیا ذرائع کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا اور پی سی بی کے درمیان کھلاڑیوں کی شرکت کے معاملے پر بات چیت بھی ہوئی تھی۔
بی بی ایل میں شرکت کرنے والے پاکستانی کھلاڑیوں میں بابر اعظم، محمد رضوان، شاہین آفریدی، حسن علی، حارث روف، شاداب خان اور حسان خان شامل ہیں، جو مختلف ٹیموں کے ساتھ معاہدے کر چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بگ بیش لیگ پاکستان پی سی بی کرکٹ آسٹریلیا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بگ بیش لیگ پاکستان پی سی بی کرکٹ ا سٹریلیا بی بی ایل
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔