اڈیالہ میں بیٹھے مجرم کو کسی صورت ملکی استحکام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افواج پاکستان اور ان کی قیادت میں تفریق ڈالنے کی کوشش قابلِ مذمت ہے، اڈیالہ میں بیٹھے مجرم کو کسی صورت ملکی استحکام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں کیونکہ پاکستان ہماری ذات، انا اور سیاست سے مقدم ہے۔ اگر کوئی فردِ واحد اپنے مخصوص مفادات کی تکمیل کے لیے ملک دشمن قوتوں کا آلہ کار بن کر ریاست اور اس کے اداروں کو نشانہ بنائے تو ایسے شخص کو بیمار ذہن کہنا بالکل حق بجانب ہے۔
پاکستان ہے تو ہم ہیں کیونکہ پاکستان ہماری ذات، اَنا اور سیاست سے مقدم ہے۔ اگر کوئی فردِ واحد اپنے مخصوص مفادات کی تکمیل کے لیے اور ملک دشمن قوتوں کا آلہ کار بن کر ریاست اور اس کے اداروں کو نشانہ بنائے تو ایسے شخص کو delusional mind یا بیمار ذہن کہنا بالکل حق بجانب ہے۔ ڈی جی آئی…
— Khawaja M.
مزید پڑھیں: وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے عمران خان کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا
انہوں نے کہاکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں دیے جانے والے ردِعمل کے پیچھےاسی شخص اور اس کے حواریوں کی وہ مسلسل نفرت انگیز ہرزہ سرائی ہے جس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
انہوں نے کہاکہ ریاستِ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی امین افواجِ پاکستان اور ان کی قیادت میں تفریق ڈالنے کی کوشش قابلِ مذمت ہے۔
’یاد رکھیں! ملکی وقار، خودمختاری اور قومی سلامتی کے منافی کوئی کوشش کسی بھی سطح پر کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ اڈیالہ میں بیٹھے مجرم کو کسی صورت ملکی استحکام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘
دریں اثنا نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ عمران خان کے رویے پر پوری قوم کو جواب دینا چاہیے، یہ ایسا شخص ہے جو اقتدار کے لیے کسی کو بھی باپ بنا لیتا ہے، اس شخص کو اقتدار کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا۔
انہوں نے کہاکہ ایک جماعت مسلسل فوج پر حملے کیے جا رہے تھی، ڈی جی آئی ایس پی آر نے اسی لیے جواب دینا مناسب سمجھا۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی رہنما اور کارکنان صبح شام اداروں پر حملہ آور ہوتے ہیں، لیکن جب عمران خان کو اقتدار چاہیے ہوتا ہے تو کسی کو بھی باپ بنا لیتا ہے۔
خواجہ آصف نے کہاکہ عمران خان نے کبھی دہشتگردوں کے حملے کی مذمت نہیں کی، یہ موقع پرست لوگ ہیں، انہی کے دور میں دہشتگردوں کو ملک میں لا کر بسایا گیا۔
وزیر دفاع نے کہاکہ ملکی سلامتی اور دہشتگردوں کے خلاف مؤقف بنیادی چیز ہے، جس پر اتفاق کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے حب الوطنی کا ثبوت دیا، اور کبھی پاکستان کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔
مزید پڑھیں: مائنس ون نہیں تو پوری پی ٹی آئی ختم، فیصل واوڈا نے سخت پیغام دے دیا
انہوں نے کہاکہ دھاندلی سمیت دیگر مسائل پر بات ہو سکتی ہے، لیکن ملک پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا، پختونوں کی حب الوطنی پر زرا برابر بھی شک نہیں کیا جا سکتا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ افغان طالبان رجیم گارنٹی دینے کو تیار نہیں کی ان کی سرزمین ہمارے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ افغانستان نے ہماری سرحد کا احترام نہ کیا تو بھرپور جواب دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اڈیالہ جیل خواجہ آصف ذہنی مریض ڈی جی آئی ایس پی آر عمران خان فوجی قیادت وزیر دفاع وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل خواجہ ا صف ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر فوجی قیادت وزیر دفاع وی نیوز انہوں نے کہاکہ خواجہ ا صف وزیر دفاع کے لیے
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش