وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افواج پاکستان اور ان کی قیادت میں تفریق ڈالنے کی کوشش قابلِ مذمت ہے، اڈیالہ میں بیٹھے مجرم کو کسی صورت ملکی استحکام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں کیونکہ پاکستان ہماری ذات، انا اور سیاست سے مقدم ہے۔ اگر کوئی فردِ واحد اپنے مخصوص مفادات کی تکمیل کے لیے ملک دشمن قوتوں کا آلہ کار بن کر ریاست اور اس کے اداروں کو نشانہ بنائے تو ایسے شخص کو بیمار ذہن کہنا بالکل حق بجانب ہے۔

پاکستان ہے تو ہم ہیں کیونکہ پاکستان ہماری ذات، اَنا اور سیاست سے مقدم ہے۔ اگر کوئی فردِ واحد اپنے مخصوص مفادات کی تکمیل کے لیے اور ملک دشمن قوتوں کا آلہ کار بن کر ریاست اور اس کے اداروں کو نشانہ بنائے تو ایسے شخص کو delusional mind یا بیمار ذہن کہنا بالکل حق بجانب ہے۔ ڈی جی آئی…

— Khawaja M.

Asif (@KhawajaMAsif) December 7, 2025

مزید پڑھیں: وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے عمران خان کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا

انہوں نے کہاکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں دیے جانے والے ردِعمل کے پیچھےاسی شخص اور اس کے حواریوں کی وہ مسلسل نفرت انگیز ہرزہ سرائی ہے جس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

انہوں نے کہاکہ ریاستِ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی امین افواجِ پاکستان اور ان کی قیادت میں تفریق ڈالنے کی کوشش قابلِ مذمت ہے۔

’یاد رکھیں! ملکی وقار، خودمختاری اور قومی سلامتی کے منافی کوئی کوشش کسی بھی سطح پر کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ اڈیالہ میں بیٹھے مجرم کو کسی صورت ملکی استحکام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘

دریں اثنا نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ عمران خان کے رویے پر پوری قوم کو جواب دینا چاہیے، یہ ایسا شخص ہے جو اقتدار کے لیے کسی کو بھی باپ بنا لیتا ہے، اس شخص کو اقتدار کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا۔

انہوں نے کہاکہ ایک جماعت مسلسل فوج پر حملے کیے جا رہے تھی، ڈی جی آئی ایس پی آر نے اسی لیے جواب دینا مناسب سمجھا۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی رہنما اور کارکنان صبح شام اداروں پر حملہ آور ہوتے ہیں، لیکن جب عمران خان کو اقتدار چاہیے ہوتا ہے تو کسی کو بھی باپ بنا لیتا ہے۔

خواجہ آصف نے کہاکہ عمران خان نے کبھی دہشتگردوں کے حملے کی مذمت نہیں کی، یہ موقع پرست لوگ ہیں، انہی کے دور میں دہشتگردوں کو ملک میں لا کر بسایا گیا۔

وزیر دفاع نے کہاکہ ملکی سلامتی اور دہشتگردوں کے خلاف مؤقف بنیادی چیز ہے، جس پر اتفاق کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے حب الوطنی کا ثبوت دیا، اور کبھی پاکستان کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔

مزید پڑھیں: مائنس ون نہیں تو پوری پی ٹی آئی ختم، فیصل واوڈا نے سخت پیغام دے دیا

انہوں نے کہاکہ دھاندلی سمیت دیگر مسائل پر بات ہو سکتی ہے، لیکن ملک پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا، پختونوں کی حب الوطنی پر زرا برابر بھی شک نہیں کیا جا سکتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ افغان طالبان رجیم گارنٹی دینے کو تیار نہیں کی ان کی سرزمین ہمارے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ افغانستان نے ہماری سرحد کا احترام نہ کیا تو بھرپور جواب دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اڈیالہ جیل خواجہ آصف ذہنی مریض ڈی جی آئی ایس پی آر عمران خان فوجی قیادت وزیر دفاع وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل خواجہ ا صف ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر فوجی قیادت وزیر دفاع وی نیوز انہوں نے کہاکہ خواجہ ا صف وزیر دفاع کے لیے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار