ایکس سروس مین سوسائٹی نے جنرل عاصم منیر کی چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی حمایت کا اعلان کیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
ایکس سروس مین سوسائٹی نے پاک فوج کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی حمایت کا اعلان کیا۔
راولپنڈی پریس کلب میں ہونے والی پریس کانفرنس میں چیف کوآرڈینیٹر عزیز اعوان نے کہا کہ سوسائٹی کو ادارے کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے اور یہ ان کے ذاتی اور تنظیمی خیالات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے ریاستی اداروں کے حوالے سے رویے پر تشویش پائی جاتی ہے، اور سوسائٹی نے متعلقہ جماعت پر پابندی سمیت مختلف اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایکس سروس مین سوسائٹی نے 9 مئی کے واقعات کے مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ کرنے اور بانی پی ٹی آئی کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا، ساتھ ہی بیرون ملک سے چلنے والی پروپیگنڈا مہم پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا۔
صدر ایکس سروس مین سوسائٹی، جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے کہا کہ ملک میں استحکام کے لیے قومی اتحاد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان کی طاقت عوام ہیں اور فوج نے 1947 سے آج تک ہر محاذ پر دفاعِ وطن کی ذمہ داری نبھائی ہے۔
جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے بھارت کی جانب سے مبینہ ہائبرڈ وار اور خطے میں کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمسایہ ممالک کے ساتھ چیلنجز پیدا کر رہا ہے اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل کے بعض میڈیا پلیٹ فارمز پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔
صدر سوسائٹی نے جنرل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور محنت کو سراہا اور کہا کہ وہ اعلیٰ عہدے کے مستحق ہیں، تاہم شہدا کی بے حرمتی جیسے واقعات قابل افسوس ہیں۔ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور بتایا کہ پاکستان کی فوج عالمی درجہ بندی میں بارھویں نمبر پر ہے جبکہ بھارت کا دفاعی بجٹ اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر مقررین نے کہا کہ قومی سلامتی، اتحاد اور استحکام پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم کو ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایکس سروس مین سوسائٹی سوسائٹی نے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز