ایکس سروس مین سوسائٹی نے پاک فوج کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی حمایت کا اعلان کیا۔
راولپنڈی پریس کلب میں ہونے والی پریس کانفرنس میں چیف کوآرڈینیٹر عزیز اعوان نے کہا کہ سوسائٹی کو ادارے کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے اور یہ ان کے ذاتی اور تنظیمی خیالات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے ریاستی اداروں کے حوالے سے رویے پر تشویش پائی جاتی ہے، اور سوسائٹی نے متعلقہ جماعت پر پابندی سمیت مختلف اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایکس سروس مین سوسائٹی نے 9 مئی کے واقعات کے مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ کرنے اور بانی پی ٹی آئی کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا، ساتھ ہی بیرون ملک سے چلنے والی پروپیگنڈا مہم پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا۔
صدر ایکس سروس مین سوسائٹی، جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے کہا کہ ملک میں استحکام کے لیے قومی اتحاد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان کی طاقت عوام ہیں اور فوج نے 1947 سے آج تک ہر محاذ پر دفاعِ وطن کی ذمہ داری نبھائی ہے۔
جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے بھارت کی جانب سے مبینہ ہائبرڈ وار اور خطے میں کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمسایہ ممالک کے ساتھ چیلنجز پیدا کر رہا ہے اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل کے بعض میڈیا پلیٹ فارمز پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔
صدر سوسائٹی نے جنرل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور محنت کو سراہا اور کہا کہ وہ اعلیٰ عہدے کے مستحق ہیں، تاہم شہدا کی بے حرمتی جیسے واقعات قابل افسوس ہیں۔ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور بتایا کہ پاکستان کی فوج عالمی درجہ بندی میں بارھویں نمبر پر ہے جبکہ بھارت کا دفاعی بجٹ اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر مقررین نے کہا کہ قومی سلامتی، اتحاد اور استحکام پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم کو ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایکس سروس مین سوسائٹی سوسائٹی نے نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا