رحیم یارخان: دہشتگرد کا علاج کرنے کے الزام میں ڈاکٹرز و عملے سمیت 6 افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
رحیم یارخان کے ایک نجی اسپتال میں دہشت گرد کا علاج کرنے کے الزام پر ڈاکٹرز و دیگر طبی عملے سمیت 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق اسپتال کے ڈاکٹرز نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک دہشت گرد فاروق کمانڈر کو زخمی ہونے پر اس کا علاج کیا تھا، ڈاکٹروں نے دہشت گرد کے علاج معالجے اور اسپتال میں داخلے کا ریکارڈ ظاہر نہیں کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ طبی عملے نے معاملے کی چھان بین کے لیے اسپتال جانے والے پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی کے بعد ہاتھا پائی بھی کی۔
پولیس کے مطابق ڈاکٹرز و طبی عملے کے خلاف دہشت گرد کا ریکارڈ چھپانے کے خلاف مقدمہ تھانہ سٹی صادق آباد میں درج کر لیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
شہر قائد کے علاقے سرجانی ٹاؤن روزی گوٹْھ میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں باپ اور بیٹا جاں بحق جبکہ دوسرا بیٹا زخمی ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں والد اور دو بیٹے زخمی ہوئے۔
مقتولین کی لاشوں اور زخمی کو چھیپا کے رضا کاروں نے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔
اس حوالے سے ترجمان ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کا کہنا ہے کہ سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ سے جاں بحق افراد کی شناخت 62 سالہ کامل حسین اور اس کے بیٹے کو 26 سالہ دوہان کے نام شناخت کیا گیا جبکہ زخمی ہونے والے دوسرے بیٹے 30 سالہ عادل کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات میں پتہ چلا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ رشتے داروں کے درمیان تنازع پر جھگڑے کے دوران پیش آیا جس کی اطلاع ملتے ہی سرجانی ٹاؤن پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد حاصل کیے اور واقعے کی مزید چھان بین شروع کر دی ہے۔
ترجمان کے مطابق فائرنگ کرنے والے ملزم کی بھی شناخت کرلی گئی ہے جس کی گرفتاری کے لیے لیے پولیس چھاپہ مار رہی ہے جسے جلد گرفتار کرلیا جائیگا۔
ایس ایچ او سرجانی ٹاؤن سہیل خاصخیلی نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ لڑکی کے رشتے پر ہونے والے تنازعے کی وجہ سے پیش آئی ہے۔