حیدرآباد، سول اسپتال میں غفلت کا نیا سانحہ، نوجوان کی موت کے خلاف قتل کا مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
حیدرآباد:
سول اسپتال میں بروقت علاج فراہم نہ کرنے اور غفلت برتنے پر نوجوان حسنین زرداری کی موت کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج کے حکم پر مارکیٹ پولیس نے نو ڈاکٹرز اور سول ہسپتال کے افسران کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
مقدمہ متوفی کے والد عامر لطف علی زرداری کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں ایم ایس ڈاکٹر اکبر ڈاہری، پروفیسر ڈاکٹر اقبال شاہ، اور دیگر ڈاکٹروں کو نامزد کیا گیا۔
مدعی نے الزام عائد کیا کہ سول ہسپتال کے ڈاکٹروں اور انتظامیہ کی غفلت کے باعث ان کے بیٹے کی زندگی بچائی نہیں جا سکی۔
تفصیلات کے مطابق سترہ سالہ حسنین کو ڈینگی کی تصدیق کے بعد سول ہسپتال لایا گیا تھا، جہاں اسے ابتدائی علاج فراہم نہیں کیا گیا اور وہ طویل عرصے تک وہیل چیئر پر بیٹھا رہا۔
بعد ازا، وارڈ میں کسی ڈاکٹر نے اس کی حالت پر دھیان نہیں دیا، اور جب تک مریض کو مناسب علاج ملا، اس کی حالت مزید بگڑ چکی تھی۔
مدعی نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر سدرہ، ڈاکٹر مشک، اور دیگر عملے نے فوری طور پر طبی امداد فراہم نہیں کی جس کی وجہ سے حسنین کی حالت بگڑ گئی۔
حالت مزید خراب ہونے پر اس کو آئی سی یو میں منتقل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہاں بھی کوئی مناسب علاج نہیں دیا گیا، جس کے نتیجے میں اس کا انتقال ہو گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب