WE News:
2026-06-03@03:23:17 GMT

جنرل فیض حمید کو سزا، کیا عمران خان بھی لپیٹ میں آ سکتے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT

جنرل فیض حمید کو سزا، کیا عمران خان بھی لپیٹ میں آ سکتے ہیں؟

فوجی عدالتوں کے حوالے سے قانونی ماہر اور جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ سے ریٹائرڈ کرنل انعام الرحیم ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ فوجی عدالت خود کو صرف چارج شیٹ تک محدود رکھتی ہے اور اس سے باہر بالکل بھی نہیں جاتی۔

یہ بھی پڑھیں: آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ثابت،جنرل فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی، آئی ایس پی آر

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنرل فیض حمید کے معاملے میں ہوا یہ کہ ہاؤسنگ اسکیم کے مالک کنور معیز کا معاملہ براہ راست سپریم کورٹ سے فوجی اتھارٹیز کو بھجوایا گیا۔ فوجی عدالت نے اسی معاملے کو دیکھا، اسی کے حوالے سے ثبوت اکٹھے کیے اور پھر تقریباً 15 مہینے کے بعد اسے منطقی انجام تک پہنچایا۔

ریٹائرڈ کرنل انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ کنور معیز نے ہمت کی اور اب ان کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی ہمت کر سکتے ہیں جن کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں تو فوجی حکام پھر ان شکایات کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنرل فیض حمید اور سابق وزیراعظم عمران خان کا تعلق بالکل ثابت کیا جا سکتا ہے اور آئی ایس پی آر کا بیان بالکل واضح ہے کہ ’ملزم پر 4 الزامات عائد کیےگئے، ان الزامات میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا ، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزیاں جو ریاست کی سلامتی اور مفادات کے لیے نقصان دہ ہیں، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال، اوربعض افراد کو بلاجواز نقصان پہنچانے کے الزامات شامل ہیں‘۔

مزید پڑھیے: فیض حمید کو سزا، اگلا کون؟ عمران خان سے متعلق بڑی پیشگوئی

کرنل انعام الرّحیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں کی بات بالکل واضح ہے لیکن اس کے لیے کسی اور فریق کو سامنے آ کر درخواست دائر کرنی پڑے گی۔

عمران خان کے خلاف مقدمات کا حالیہ اسٹیٹس کیا ہے؟

21 اگست کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 9 مئی سے متعلق 8 مقدمات میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ضمانتیں منظور کر لیں۔ اب عمران خان صرف القادر ٹرسٹ کیس میں جیل میں قید ہیں لیکن اس کے ساتھ عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ٹو مقدمے کا ٹرائل آخری مراحل میں ہے۔

9  مئی 2023 سے پہلے بھی عمران خان مختلف مقدمات میں نامزد تھے لیکن 9 مئی کے بعد ان پر درجنوں نئے مقدمات قائم کیے گئے۔

پولیس اور ایف آئی اے کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع شدہ رپورٹس کے مطابق کل 186 مقدمات درج ہیں۔ دسمبر 2024 میں ایک رپورٹ اِسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کی گئی جس کے مطابق عمران خان کے خلاف پنجاب میں 99، اسلام آباد میں 74، خیبرپختونخواہ میں 2، ایف آئی اے کے پاس 7 اور قومی احتساب بیورو کے پاس 3 مقدمات ہیں۔ لیکن اب تک جن مقدمات میں عمران خان سزا یافتہ ہیں، بری ہو چکے، سزائیں ملنے کے بعد معطل ہو چکیں یا ضمانتیں مل چکیں ان کی تعداد کم و بیش 13 ہے۔

مزید پڑھیں: جنرل فیض حمید کو سزا، ’ 9 مئی کے کیسز ابھی باقی ہیں‘، فیصل واوڈا

باقی زیادہ تر مقدمات 2022 کا لانگ مارچ، 2023 کے احتجاجات اور دیگر اِس نوعیت کے مقدمات ہیں جن میں عمران کی براہ راست شمولیت نہیں۔ یہ مقدمات زیادہ تر ملک بھر میں ہونے والے احتجاجات اور توڑ پھوڑ کے حوالے سے اشتعال انگیزی پر مبنی ہیں۔

 بانی پی ٹی آئی 5 اگست 2023 کو توشہ خانہ مقدمے میں سزا کے بعد جیل بھجوائے گئے تھے۔ اِس وقت 2 سال سے زائد عرصے سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں جہاں ان کے خلاف کچھ مقدمات زیرِالتوا، کچھ میں سزا معطل اور کچھ میں ضمانت ہو چکی ہے۔ کچھ مقدمات جیسا کہ سائفر کیس، عدت کیس اُن کے خلاف ختم ہو چکے ہیں۔

عمران خان اس وقت کس مقدمے میں جیل میں ہیں؟

عمران خان فی الحال القادر ٹرسٹ کیس جسے 190 ملین پاؤنڈ کیس بھی کہا جاتا ہے اس میں سزا یافتہ اور پابند سلاسل ہیں۔ اس مقدمے میں انہیں 17 جنوری 2025 میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ ان کی بیوی بشریٰ بی بی کو 7 سال کی سزا ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: ’قوم برسوں ان کے بوئے بیجوں کی فصل کاٹے گی‘، خواجہ آصف کا سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید پر ردعمل

قومی احتساب بیورو کے پاس درج یہ وہی مقدمہ ہے جس میں 9 مئی 2023 کو رینجرز نے عمران خان کو اِسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا تھا لیکن بعد ازاں 11 مئی 2023 کو سپریم کورٹ نے احاطہ عدالت سے ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا۔ جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے انہیں 2 ہفتے کی ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔

یہ کیس القادر یونیورسٹی پروجیکٹ ٹرسٹ سے متعلق ہے جہاں ان پر کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کا الزام ہے۔ دیگر مقدمات میں انہیں ضمانت مل چکی ہے لیکن یہ کیس ہی انہیں جیل میں رکھے ہوئے ہے۔

اس مقدمے میں عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے سزا معطلی کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ گزشتہ روز 25 ستمبر کو اِس مقدمے کی سماعت کے موقع پر پبلک پراسکیوٹر کی غیر حاضری کے سبب مقدمے کی سماعت آگے نہ بڑھ سکی اور اب اگلی سماعت 16 اکتوبر کو ہو گی۔

9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت

21 اگست کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے 9 مئی سے متعلق 8 مقدمات میں عمران خان کی ضمانتیں منظور کیں۔ اس سے قبل انسداد دہشتگردی عدالت اور  لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست ضمانت کو مسترد کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں: فیض حمید کیس کا فیصلہ شواہد کی بنیاد پر آیا، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

عمران خان کے خلاف 9 مئی مقدمات میں لاہور کورکمانڈر ہاؤس کے جلاؤ گھیراؤ بھی شامل ہے۔ جولائی میں لاہور پولیس کے 13 اہلکاروں پر مشتمعل ایک ٹیم نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا اور اِس حوالے سے عمران خان سے تفتیش کرنے کی کوشش کی۔

توشہ خانہ کیس

5 اگست 2023 کو عمران خان کو اِس مقدمے میں 3 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ یہ مقدمہ دراصل الیکشن کمیشن آف پاکستان سے شروع ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل شدہ تحائف سے حاصل ہونے والی رقم کو اپنے گوشواروں میں درج نہیں کیا۔

الیکشن کمیشن نے 21 اکتوبر 2022 کو عمران خان کو اِس مقدمے میں نااہل قرار دے دیا۔ بعد میں قومی احتساب بیورو نے اس سلسلے میں ایک کرپشن ریفرنس دائر کیا جس میں کہا گیا کہ عمران خان نے غیر ملکی دوروں کے دوران موصولہ تحائف کی قیمتوں کا کم اندراج کر کے فائدہ اٹھایا۔ لیکن 28 اگست 2023 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس مقدمے میں سزا معطل کر دی تھی۔

توشہ خانہ ٹو کیس

توشہ خانہ مرکزی کیس کے بعد توشہ خانہ ٹو مقدمہ عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے ایف آئی اے کے پاس درج کیا گیا۔ 7 سے 10 مئی 2021 کے 3 روزہ دورے کے دوران سعودی حکومت نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو  بیش قیمت بلغاری جیولری تحفے میں دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:  لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کون ہیں، انہیں کن جرائم کی سزا دی گئی؟

نیب ریفرنس کے مطابق، مذکورہ جیولری زیادہ قیمت پر بیچ کر سرکاری ریکارڈ میں کم قیمت اندراج کیا گیا جس سے سرکاری خزانے کو ساڑھے 3 کروڑ سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 31 جنوری 2024 کو اس کیس میں عمران خان کو 14 سال جبکہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے یکم اپریل 2024 کو اِس مقدمے میں سزائیں معطل کر دی تھیں۔ اس وقت یہ اسپیشل جج سنٹرل کے پاس زیرِ سماعت اور فیصلے کے قریب ہے۔

سائفر کیس

10 اپریل 2022 کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمٰی سے ہٹائے جانے کے بعد عمران خان نے ایک جلسے میں ایک لفافہ لہراتے ہوئے کہ امریکا سے دفتر خارجہ کو موصول ہونے والے سائفر کی وجہ سے انہیں ہٹایا گیا۔ اس پر عمران خان کے خلاف سرکاری راز عیاں کرنے کے حوالے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈی جی آئی ایس پی آر نے قوم میں ہلچل مچا دی، جنرل فیض حمید کیس کا آخری باب؟

جنوری 2024 میں خصوصی عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10/10 سال قید کی سزائیں سنا دی تھیں لیکن 3 جون 2024 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اُنہیں مقدمے سے بری کر دیا۔

عدت کیس

یہ معاملہ عدت کے دوران شادی سے متعلق تھا لیکن اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے 13 جولائی 2024 کو عمران خان کو اس مقدمے سے بری کر دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

فیض حمید فیض حمید اور عمران خان فیض حمید سزا فیض حمید کورٹ مارشل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: فیض حمید فیض حمید اور عمران خان فیض حمید سزا فیض حمید کورٹ مارشل اسلام ا باد ہائیکورٹ عمران خان کے خلاف عمران خان کو ا سال قید کی سزا جنرل فیض حمید عمران خان کی ہائیکورٹ نے کو ا س مقدمے فیض حمید کو کے حوالے سے سپریم کورٹ مقدمات میں ان کے خلاف توشہ خانہ نے کہا کہ جیل میں کورٹ نے ئی ایس کے پاس کر دیا کے بعد ا فیشل

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان