اسلام آباد:

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ اب کوئی فیض حمید نہیں لہذا وہ اپنی منفی سیاست کو چھوڑ دے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ  فیض حمید سے متعلق فیصلہ تاریخی ہے، اس فیصلے سے واضح ہوگیا کہ قانون سب کے لئے برابر ہے، فیض حمید نے عہدے کو ذاتی پسند اور ناپسند کے مطابق استعمال کیا، قومی مفاد کے نام پر فیض حمید نے حکومتوں کو گرایا اور بنایا۔ جب آپ ریاستی منصب کو سیاسی انجینرنگ کے لئے استعمال کریں گے تو اس کے نتائج ہوں گے۔

 طارق فضل چوہدری نے کہا کہ فیض حمید نے ن لیگی قیادت پر غیر قانونی اور جھوٹے مقدمات بنائے، فیض حمید اور عمران خان کے گٹھ جوڑ نے سیاسی عدم استحکام پیدا کیا، اس گٹھ جوڑ کے ذریعے افواج پاکستان میں تقسیم پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی، اس فیصلے سے افواج پاکستان میں خود احتسابی کا عمل مزید مضبوط ہوا اور اس پر عوام کا اعتماد بحال ہوا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم نے ثابت کردیا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، عمران خان اور پی ٹی آئی نے اڈیالہ جیل کو پارٹی سیکرٹریٹ سمجھ رکھا ہے، عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ ہمارے ریاستی اداروں کے خلاف زیر اگل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں آپریشن بنیان المرصوص میں فتح کی اعلیٰ مثال قائم کی، سفارتی سطح پر پاکستان کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے لیکن یہ بدقسمتی سے ایک جماعت ریاست کے خلاف منفی پروپیگنڈا کررہے ہیں،  جیل میں بیٹھا ایک سزا یافتہ مجرم افواج پاکستان کے مسلسل زہر اگل رہا ہے، ہم سب کا فرض ہے کہ ایسے لوگوں کا پروپیگنڈا ناکام بنائیں۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن وہاں کی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کے استعمال ہونے سے روکنا ہمارا فرض ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دہشتگردی کے  خلاف جاری آپریشن کی مخالفت کرنا شرمناک ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارے حوصلے بلند ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری افواج پاکستان فیض حمید نے کہا

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا