افغانستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے، تعاون کیلئے تیار ہیں: وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 11 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد: (آئی پی ایس) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی و دیگر گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے۔

بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امن و سلامتی و ترقی کے موضوع پرپارلیمانی رہنماؤں کو ایک پلیٹ فورم پر لانا پاکستان کیلئے باعث فخر ہے، امن واستحکام ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔

سپیکرز، پارلیمنٹیرینز اورشرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کئی بار امن دشمن کارروائیوں کا سامنا کیا، ہم نے ہمیشہ استحکام اوردفاع وطن میں عزم کا مظاہرہ کیا، ہماری مسلح افواج نے بہترین پیشہ ورانہ کارکردگی سے دشمن کے عزائم ناکام بنائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دنیا کو دکھایا پاکستان اپنی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے ہر قیمت ادا کرے گا، پاکستان اورافغانستان کے درمیان بات چیت میں تعاون پر بردارممالک کو سراہتے ہیں، افغان حکومت ٹی ٹی پی ودیگر گروہوں کیخلاف مؤثر کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرامن اورمستحکم افغانستان ہی علاقائی رابط، ترقی اور خوشحالی کی کنجی ہے، شدت پسند گروہ افغانستان اوراس کے باہرامن کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں، پاکستان نے ہمیشہ مظلوم اقوام کی حمایت کی ہے۔

وزیراعظم نے شرکاء پر واضح کیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ترقی اسی معاشرے میں ممکن ہے جہاں امن اورسلامتی ہو، دنیا بھر میں جاری تنازعات نے امن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، امن و ترقی لازم وملزوم ہی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جامع معاشی اصلاحات کا آغاز کیا ہے، پائیدارترقی،ادارہ جاتی مضبوطی،خواتین ونوجوانوں کو بااختیار بنانے اورمساوی مواقع یقینی بنارہے ہیں، ایس ایم ایز کےفروغ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ مرکوز ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ خواتین کو ڈیجیٹل مہارتیں سکھانے اورمالی سہولیات دینے پر خصوصی توجہ دی ہے، پاکستان عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مالیاتی اصلاحات لارہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سرمایہ کاری میں آسانی اورماحولیاتی استحکام کے لیے کام کررہے ہیں، کوئی ملک تنہا ترقی نہیں کرسکتا، ہماری قسمتیں ایک دوسرے سے جڑی ہیں، پارلیمان عوام کی امانت اورامیدوں کی محافظ ہے، عوام کے خوابوں اورتوقعات کو حقیقت میں بدلنے کیلئے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانا ہماری ذمہ داری ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ یقین ہے کانفرنس میں دانشمندانہ گفتگو ہمارے اجتماعی سفر کو مزید مستحکم کرے گی، خواہش ہے کہ دنیا کی تمام اقوام امن،ترقی اورمشترکہ خوشحالی کے لیے متحد ہوں، ایک ایسا مستقبل تشکیل دیا جائے جو پائیدارامن اورانسانی ترقی پر مبنی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کو موسمیاتی تبدیلی پر سنگین خطرہ درپیش ہے ، اسحاق ڈار ستائیسویں ترمیم: ’’سچ صرف چائے خانوں میں سرگوشیوں تک محدود ہے‘‘، جسٹس اطہر شیخ وقاص اکرم کے وارنٹ گرفتاری، عمر ایوب اور زرتاج گل کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی غیر قانونی اسلحے تک رسائی پڑوسی ممالک کیلئے براہ راست خطرہ ہے: پاکستان احمد الشرع کی ٹرمپ سے ملاقات، امریکا نے شام پر عائد پابندیاں عارضی طور پر ختم کردیں لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر میں بے ضابطگیاں، وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی جے یو آئی نے27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر سینیٹر احمد خان کو پارٹی سے نکال دیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: تعاون کیلئے تیار کارروائی کرے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار