صدر ٹرمپ کا بی بی سی پر 5 ارب ڈالر تک ہرجانے کا مقدمہ کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
صدر ٹرمپ کا بی بی سی پر 5 ارب ڈالر تک ہرجانے کا مقدمہ کرنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 15 November, 2025 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے خلاف ایک سے پانچ ارب ڈالر تک کا مقدمہ دائر کریں گے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اعلان صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا۔یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب بی بی سی نے ان کی 6 جنوری 2021 کی تقریر کے ایک حصے کی ایڈیٹنگ کو غلطی قرار دیتے ہوئے معافی تو مانگ لی ہے لیکن ساتھ ہی کہا کہ صدر ٹرمپ کے الزامات کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔
بی بی سی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس کی ایڈیٹنگ غلط تھی جس سے ادارے کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے وکلا نے بتایا کہ بی بی سی کو قانونی نوٹس موصول ہوا تھا جس میں صدر ٹرمپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام لگا کر جمعے کے روز تک معافی مانگنے اور معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔یہ تنازع بی بی سی کی اس ایڈٹ شدہ ویڈیو سے شروع ہوا جس میں ٹرمپ کی 6 جنوری کی تقریر کے تین مختلف حصوں کو ملا کر پیش کیا گیا تھا۔
امریکی صدر کی ٹیم کا موقف تھا کہ اس ایڈیٹنگ سے یہ تاثر گیا کہ صدر ٹرمپ اپنے حامیوں کو کیپیٹل ہل پر حملے کی ترغیب دے رہے تھے۔اس تنازع نے بی بی سی کو بدترین بحران میں دھکیل دیا ہے اور ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی اور ہیڈ آف نیوز ڈیبرہ ٹرنس کو اپنے عہدوں سے استعفی دینا پڑا ہے۔صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں بی بی سی کی ایڈٹ شدہ ویڈیو کو انخابی عمل میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ویڈیو نہ صرف جھوٹ بلکہ بدنیتی پر مبنی تھی۔
انھوں نے بی بی سی کی معذرت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو کلپس کو تقریبا ایک گھنٹے کے وقفے کے ساتھ پیش کیا گیا لیکن انہیں یوں جوڑا گیا جیسے وہ ایک مسلسل اشتعال انگیز خطاب تھا۔یاد رہے کہ قانونی نوٹس ملنے پر بی بی سی کے چیئرمین نے وائٹ ہاس سے ذاتی طور پر معذرت کی اور برطانوی قانون سازوں کو بتایا کہ یہ فیصلہ غلطی پر مبنی تھا۔ برطانیہ کی ثقافتی وزیر لیزا نینڈی نے بھی اسے درست اور ضروری قدم قرار دیا۔تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سے بات کریں گے جنھوں نے بی بی سی کی ادارہ جاتی خودمختاری کی حمایت کی ہے لیکن کھل کر کسی جانب داری کا اظہار نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان سپر لیگ میں مزید 2 نئی ٹیموں کی فروخت کا عمل شروع، متوقع نام بھی سامنے آگئے پاکستان سپر لیگ میں مزید 2 نئی ٹیموں کی فروخت کا عمل شروع، متوقع نام بھی سامنے آگئے حیدرآباد: غیر قانونی آتش بازی کا سامان بنانے والے کارخانے میں دھماکے، 4 افراد جاں بحق، 5 زخمی اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے،صدر اور وزیر اعظم کا ایئر پورٹ پر استقبال اسحاق ڈار سے مصری وزیر خارجہ کا رابطہ، پاکستان میں دہشتگردی پر اظہار افسوس پی ٹی آئی رہنما مونس الہی کو بڑا ریلیف، انٹرپول نے دو سال سے جاری تحقیقات بندکردیں پاکستان، چین اور امریکا سے 20 ہزار پی ایچ ڈی اسکالرشپس کے حصول کا خواہاںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔
Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN
— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘
دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔
تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔