خیبر پختونخوا کے سرکاری ونجی اسکولوں میں خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ مہم چلانے فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے تمام نجی اور سرکاری اسکولوں میں خسرہ اور روبیلا (ایم آر) مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ مہم کے دوران چھ ماہ سے پانچ سال تک کے بچوں کوویکسی نیٹ کیا جائےگا۔خسرہ اینڈ روبیلا (ایم آر) مہم 17 سے 28 نومبر 2025 تک چلائے جائی گی۔ محکمہ تعلیم کا بھی کہنا تھا کہ مہم میں 6 ماہ سے 5 سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جائیں گے۔
ذرئع کے مطابق محکمہ تعلیم کے پی کے نے بتایا کہ صحت کی ٹیمیں مہم کے دوران ضلع پشاور میں نجی اور سرکاری اسکولوں/ اداروں کا دورہ کریں گی۔ تمام متعلقہ بچوں کی ویکسی نیشن کو یقینی بنانے کے لیے فالو اپ سرگرمیاں کریں گی۔ مزید برآں ضلع پشاور کے تمام نجی اور سرکاری اسکول، ادارے صحت، ٹیکہ کاری کے عملے کو سہولت فراہم کریں گے۔
ایم آر مہم کے دوران ویکسینیشن سے انکار کرنے والے نجی اسکولوں کے خلاف متعلقہ قانونی دفعات کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔