اسکولوں میں تمام سہولیات پہنچانے کیلیے کام شروع کردیا ہے،راول شرجیل
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251110-05-7
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت) پیپلزپارٹی کے صوبائی رہنما راول شرجیل انعام میمن نے کہا ہے ضلع حیدرآباد کے تمام اسکولوں میں بچوں کا تمام تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ہم نے کام شروع کردیا ہے سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو ہم فری میں بہترین تعلیمی ماحول اور تعلیم دیں گے ڈینگی سے بچاو کے لیے عوام احتیاطی تدبیروں پر عمل کرے انھوں نے یہ باتیں راول ہاوس ٹنڈوجام میں صوبائی سنیئر وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سے ضلع حیدرآباد کے سرکاری اسکولوں کو فرنیچر دیئے جانے کی تقریب اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی انھوں نے کہا اچھی تعلیم اچھے ماحول میں حاصل کرنا ہر بچے کا حق ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ضلع حیدرآباد کے تمام سرکاری اسکول ماڈل اسکول بن جائیں اور وہاں پر پڑھنے والے بچوں کو بہترین تعلیم کے ساتھ بہترین تعلیمی ماحول بھی ملے انھوں نے کہا آج سے ضلع بھر کے اسکولوں کے لیے پہلے مراحلے میں فرنیچر پہنچا رہے ہیں اور مذید اسے اسکولوں کی فہرست تیار کی جارہی ہے جہاں پر بچوں کو تعلیم حاصل کرنے میں فرنیچر کی کمی کا سامنا ہے انھوں نے کہا ہم آنے والے دنوں میں تمام اسکولوں فرنیچر کے ساتھ سولر سسٹم بھی اسکولوں لگوائیں گے تاکہ بچے اور اساتذہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پریشان نہ ہوں انھوں نے کہا اس وقت ڈینگی وائرس کی وجہ سے ضلع حیدرآباد بہت زیادہ متاثر ہے ان حالات میں عوام کو بھی اس وائرس کو روکنے کے لیے حکومت کا ساتھ احتیاطی تدبیروںکو اپنا کر دینا چاہیے اور اپنے بچوں اور اپنی صحت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے انھوں نے کہا کہ ڈینگی وائرس کے خلاف اسپرے روزانہ کی بنیاد پر کرایا جارہا ہے اگر کسی نے اس میں کوتاہی کی تو اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی انھوں نے کہا کہ حکومت کو عوام کی صحت اور تعلیم کا بہت خیال ہے اس موقع پر ان کے ہمراہ میونسپل کارپورشن ٹنڈوجام کے چیئرمین بدر میمن وائس چیئرمین شفقت شاہ سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انھوں نے کہا کے لیے
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔