ترک پارلیمانی وفد کی بنگلہ دیش کے خارجہ مشیر سے ملاقات، روہنگیا کیمپوں کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
بنگلہ دیش ترکیہ پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے چیئرمین محمد عاکف یلماز کی قیادت میں ترک وفد نے کاکس بازار میں روہنگیا کیمپوں کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ترکیہ کے انسانی ہمدردی کے پروگراموں کا جائزہ لیا۔
بعد ازاں 5 رکنی ترک پارلیمانی وفد نے ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ محمد توحید حسین سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔
خارجہ مشیر نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ترکی کی جانب سے بے گھر روہنگیا آبادی کی انسانی ضروریات پوری کرنے میں مستقل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں:دفاعی صنعت میں انقلاب، بنگلہ دیش کا ڈیفینس اکنامک زون قائم کرنے کا منصوبہ
محمد توحید حسین نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی و دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط اور کثیرالجہتی شعبوں میں تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے ترک جامعات میں بنگلہ دیشی طلبا کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھانے، تجارت، سرمایہ کاری اور دفاع کے شعبوں میں اشتراک کو وسعت دینے اور ترک مارکیٹ میں بنگلہ دیشی ہنرمند و نیم ہنرمند افرادی قوت کے لیے مزید روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی درخواست کی۔
مزید پڑھیں: یورپی یونین کا بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے لیے بڑی مبصر ٹیم بھیجنے کا اعلان
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں ’یونس ایمرے انسٹیٹیوٹ‘ کی ایک شاخ کے قیام کی منظوری دی ہے، جس سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
چیئرمین محمد عاکف یلماز نے اپنے دورہ کاکس بازار کے مشاہدات شیئر کرتے ہوئے کیمپوں میں انسانی ہمدردی کے اقدامات اور سہولیات کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ بنگلہ دیش کو برادر ملک سمجھتا ہے اور تمام باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسانی ہمدردی بنگلہ دیش ترکیہ خارجہ مشیر روہنگیا یونس ایمرے انسٹیٹیوٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش ترکیہ روہنگیا یونس ایمرے انسٹیٹیوٹ بنگلہ دیش انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
اٹلی میں مبینہ طور پر چار پاکستانی کسانوں(Pakistani farmers) کے لرزہ خیز قتل کے واقعے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی اٹلی میں جلائی گئی ایک وین سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق افراد پاکستانی نژاد ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی شہریت کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔
دفتر خارجہ کے مطابق مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
مزید پڑھیں:کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔