Express News:
2026-07-24@01:05:08 GMT

غربت میں کمی اور حقیقی غربت

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

عالمی بینک نے رپورٹ دی ہے کہ غربت 22 فی صد تک کم ہو گئی ہے، لیکن پاکستان کی گلیوں میں آج بھی وہی سوگ برپا ہے جہاں ہر صبح مزدور کے کندھے پر سورج نہیں قرض کا بوجھ ابھرتا ہے۔ عالمی بینک نے غربت سے متعلق اعداد نہیں بلکہ کہانیاں، خالی برتن، خالی ہانڈی، خالی چولہے، خالی پلیٹ ہر شے کی قیمت میں آگ لگی ہے۔ خوراک کی قیمتوں کی آگ نے تو لوگوں کے دل جلا دیے ہیں، مگر حکومت کے بیانیے میں اب بھی ترقی کی خوشبو ہے جب کہ مہنگائی نے عام آدمی کی سانسیں بند کر دی ہیں۔

ملک کی اکثریت کا ایک بڑا حصہ غربت کا شکار ہے۔ وزیر خزانہ کا خیال ہے کہ معیشت درست سمت میں جاری ہے، یہ وہ سمت ہے جس میں مزدور آج بھی بیٹے کے جوتے ادھار خرید رہا ہے، یہ وہ سمت ہے جہاں ماں دال میں پانی بڑھا کر بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں پکاتی ہے۔ غربت صرف جیب خالی نہیں کرتی بلکہ دل کے اندر امید کے چراغ بجھا دیتی ہے۔ یہی وہ امتحان ہے جو آج بائیس کروڑ پاکستانیوں کو درپیش ہے،کیونکہ جب آدمی کا چولہا ٹھنڈا ہوتا ہے تو اس کے ایمان کا امتحان گرم ہو جاتا ہے۔

آج 22 کروڑ پاکستانی جس امتحان سے گزر رہے ہیں اس میں کوئی روزگار کے بغیر ہے، کوئی مریض ہے لیکن دوائی کے بغیر۔ کسان کے سامنے یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ گندم بیچ کر بچوں کے کپڑے خریدے یا بجلی کا بل ادا کرے اور شہر میں مزدور اپنا خون بیچ کر بجلی کا بل ادا کرتا ہے۔ یہ وہ ترقی کا گراف جو اوپر جا رہا ہے اور زندگی کے معیار میں نیچے ڈوب رہا ہے۔ حالیہ سیلاب نے سیلاب زدہ علاقوں میں خوشحالی کے چراغ کو ڈبو دیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی اگر سنگل ڈجٹ پر آگئی ہے تو اس سنگل ڈجٹ کے ساتھ ملٹی ڈجٹ بھوک بڑھ گئی ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ کا بنظر غائر جائزہ لیں تو بہت سی حقیقتیں جو چھپی ہوئی ہیں وہ آشکار ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ غربت کے پھیلاؤ میں غریب خواتین اور بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جن کے پیر ننگے ہیں، گھرکی بچی اسکول چھوڑ دیتی ہے، ماں سلائی مشین پر بیٹھ جاتی ہے اور یہ مشین اب قرض کی ادائیگی کا ہتھیار بن چکی ہے۔ دراصل خوشحالی اور غربت میں کمی کا فسانہ اب رپورٹوں میں زندہ ہے۔ ماہرین معیشت اب اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کو اصلاحات کے لیے اب صرف اصلاحات نہیں بلکہ انصاف معیشت درکار ہے۔

وسائل میں غریبوں کو حصہ دینا پڑے گا۔ غریب کے لیے اب کچھ کرنا پڑے گا، ورنہ رپورٹیں آتی رہیں گی کہ غربت میں کمی ہو گئی یا اضافہ ہوگیا۔ اس طرح دہائیاں گزرتی چلی جائیں گی۔ آج بھی مزدور کا بیٹا مزدور ہے، درزی کا بیٹا ٹیلر ماسٹر ہے، اسی طرح سلسلہ چلتا رہے گا۔ پاکستان بننے کے بعد سے اب تک زیادہ تر یہی سلسلہ نظر آ رہا ہے۔ جب تک دولت چند ہاتھوں یا چند ہزار افراد کے پاس موجود ہے اکثریت اسی طرح محروم رہے گی۔ پاکستان کے عوام کی اکثریت کا تعلق کھیتوں سے کھلیانوں سے ہے، کسان بھی ہیں، مزدور بھی ہیں وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ معاشی ترقی کی شرح 3 فی صد تک رہے گی، وہ تو روزانہ کی آمدن کو دیکھتا ہے، دال پکے گی یا سبزی اس بات کی سوچ و بچار میں وقت گزارتا ہے کہ کم سے کم خرچ میں کس طرح چولہا جلایا جائے۔

گزشتہ تین سال میں خوراک کی قیمتوں میں 65 فی صد اضافہ ہوا ہے اور حکومتی راگ یہی الاپا جا رہا ہے کہ معیشت درست سمت میں جا رہی ہے۔ پاکستان کی خوشحالی شرح ترقی زرمبادلہ میں اضافے کی فائل پر وزارت خزانہ کے حکام دستخط کر رہے ہیں، ایسے میں ایک غریب سوچتا ہے کہ کیا ڈالر کے ریٹ گر گئے، مہنگائی اتنی کم ہو گئی کہ جیب کی خوشی بڑھ گئی، کیا بیوہ عورت کو سلائی سے گزارا آسان ہو گیا؟ کیا مزدور کی مزدوری اسے بچوں کی کفالت کے لیے کافی ہوگئی؟ یا روٹی بہت سستی ہو گئی ہے، یا روٹی اتنی موٹی ہو گئی ہے کہ ایک فرد کے لیے دو روٹی کافی ہو جائے۔

کون سا انقلاب آ گیا، کون سی معاشی خوشحالی آ گئی؟ معیشت کا یہ کیسا نشان ہے کہ اس استحکام کے اثرات ہمیں محسوس ہی نہیں ہوئے۔ معاشی ترقی کے اثرات ہم تک نہیں پہنچے۔ 50 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہو گئے، ابھی مزید افراد کا اضافہ ہوگا۔ اتنی زیادہ غربت آنے کے بعد غربت کی شرح مزید بڑھ جائے گی۔ اس میں کمی کے امکانات نہیں ہیں۔

زرمبادلہ کا ذخیرہ بڑھتا ہے پھر اس میں سے قسطوں کی ادائیگی، سود کی ادائیگی درآمدی بل کی ادائیگی اور بہت کچھ مل کر ذخیرے کو سکیڑ دیتے ہیں اور پھر اسی قسم کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے اور بالآخر یہ استحکام کو متاثر کرکے رہے گی۔ گزشتہ مرتبہ جب آئی ایم ایف کی قسط آئی تو معیشت کو عارضی طور پر جگمگاتے دیکھا، لیکن جلد ہی وہی ڈالر قسطوں کی ادائیگی اور سود کی ادائیگی، درآمدی بلوں کی ادائیگی اور کئی کاموں میں استعمال ہو کر رہ گیا۔ اسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ معیشت ایک منحوس چکر میں آ چکا ہے اور یہ سلسلہ عرصہ دراز سے اس بات کا متقاضی ہے کہ معیشت کو اس منحوس چکر سے مستقل چھٹکارا دلایا جائے۔

ہر حکومت کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ معیشت کو دباؤ سے نکالا جائے اور ایسا کرتے کرتے معیشت تو دباؤ سے نکلتی ہے البتہ قرض بڑھنے سے عام شہری مزید قرض کے بار کے دباؤ میں آ جاتا ہے اور پھر معیشت کو اس دباؤ سے نکالنے کے لیے ایک مرتبہ پھر قرض کے حصول کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں اور قرض منظوری کے بعد سمجھتے ہیں کہ عارضی طور پر معاشی دباؤ سے چھٹکارا حاصل کر لیا ہے اور پھر کئی اشاریوں میں بہتری کے دعوے کیے جاتے ہیں جو لاحاصل ہوتے ہیں کیونکہ غریب کی غربت میں حقیقی کمی نہیں ہوتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہے کہ معیشت کی ادائیگی معیشت کو ہو گئی گئی ہے رہا ہے ہے اور اس بات

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف