غربت میں کمی اور حقیقی غربت
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
عالمی بینک نے رپورٹ دی ہے کہ غربت 22 فی صد تک کم ہو گئی ہے، لیکن پاکستان کی گلیوں میں آج بھی وہی سوگ برپا ہے جہاں ہر صبح مزدور کے کندھے پر سورج نہیں قرض کا بوجھ ابھرتا ہے۔ عالمی بینک نے غربت سے متعلق اعداد نہیں بلکہ کہانیاں، خالی برتن، خالی ہانڈی، خالی چولہے، خالی پلیٹ ہر شے کی قیمت میں آگ لگی ہے۔ خوراک کی قیمتوں کی آگ نے تو لوگوں کے دل جلا دیے ہیں، مگر حکومت کے بیانیے میں اب بھی ترقی کی خوشبو ہے جب کہ مہنگائی نے عام آدمی کی سانسیں بند کر دی ہیں۔
ملک کی اکثریت کا ایک بڑا حصہ غربت کا شکار ہے۔ وزیر خزانہ کا خیال ہے کہ معیشت درست سمت میں جاری ہے، یہ وہ سمت ہے جس میں مزدور آج بھی بیٹے کے جوتے ادھار خرید رہا ہے، یہ وہ سمت ہے جہاں ماں دال میں پانی بڑھا کر بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں پکاتی ہے۔ غربت صرف جیب خالی نہیں کرتی بلکہ دل کے اندر امید کے چراغ بجھا دیتی ہے۔ یہی وہ امتحان ہے جو آج بائیس کروڑ پاکستانیوں کو درپیش ہے،کیونکہ جب آدمی کا چولہا ٹھنڈا ہوتا ہے تو اس کے ایمان کا امتحان گرم ہو جاتا ہے۔
آج 22 کروڑ پاکستانی جس امتحان سے گزر رہے ہیں اس میں کوئی روزگار کے بغیر ہے، کوئی مریض ہے لیکن دوائی کے بغیر۔ کسان کے سامنے یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ گندم بیچ کر بچوں کے کپڑے خریدے یا بجلی کا بل ادا کرے اور شہر میں مزدور اپنا خون بیچ کر بجلی کا بل ادا کرتا ہے۔ یہ وہ ترقی کا گراف جو اوپر جا رہا ہے اور زندگی کے معیار میں نیچے ڈوب رہا ہے۔ حالیہ سیلاب نے سیلاب زدہ علاقوں میں خوشحالی کے چراغ کو ڈبو دیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی اگر سنگل ڈجٹ پر آگئی ہے تو اس سنگل ڈجٹ کے ساتھ ملٹی ڈجٹ بھوک بڑھ گئی ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کا بنظر غائر جائزہ لیں تو بہت سی حقیقتیں جو چھپی ہوئی ہیں وہ آشکار ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ غربت کے پھیلاؤ میں غریب خواتین اور بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جن کے پیر ننگے ہیں، گھرکی بچی اسکول چھوڑ دیتی ہے، ماں سلائی مشین پر بیٹھ جاتی ہے اور یہ مشین اب قرض کی ادائیگی کا ہتھیار بن چکی ہے۔ دراصل خوشحالی اور غربت میں کمی کا فسانہ اب رپورٹوں میں زندہ ہے۔ ماہرین معیشت اب اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کو اصلاحات کے لیے اب صرف اصلاحات نہیں بلکہ انصاف معیشت درکار ہے۔
وسائل میں غریبوں کو حصہ دینا پڑے گا۔ غریب کے لیے اب کچھ کرنا پڑے گا، ورنہ رپورٹیں آتی رہیں گی کہ غربت میں کمی ہو گئی یا اضافہ ہوگیا۔ اس طرح دہائیاں گزرتی چلی جائیں گی۔ آج بھی مزدور کا بیٹا مزدور ہے، درزی کا بیٹا ٹیلر ماسٹر ہے، اسی طرح سلسلہ چلتا رہے گا۔ پاکستان بننے کے بعد سے اب تک زیادہ تر یہی سلسلہ نظر آ رہا ہے۔ جب تک دولت چند ہاتھوں یا چند ہزار افراد کے پاس موجود ہے اکثریت اسی طرح محروم رہے گی۔ پاکستان کے عوام کی اکثریت کا تعلق کھیتوں سے کھلیانوں سے ہے، کسان بھی ہیں، مزدور بھی ہیں وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ معاشی ترقی کی شرح 3 فی صد تک رہے گی، وہ تو روزانہ کی آمدن کو دیکھتا ہے، دال پکے گی یا سبزی اس بات کی سوچ و بچار میں وقت گزارتا ہے کہ کم سے کم خرچ میں کس طرح چولہا جلایا جائے۔
گزشتہ تین سال میں خوراک کی قیمتوں میں 65 فی صد اضافہ ہوا ہے اور حکومتی راگ یہی الاپا جا رہا ہے کہ معیشت درست سمت میں جا رہی ہے۔ پاکستان کی خوشحالی شرح ترقی زرمبادلہ میں اضافے کی فائل پر وزارت خزانہ کے حکام دستخط کر رہے ہیں، ایسے میں ایک غریب سوچتا ہے کہ کیا ڈالر کے ریٹ گر گئے، مہنگائی اتنی کم ہو گئی کہ جیب کی خوشی بڑھ گئی، کیا بیوہ عورت کو سلائی سے گزارا آسان ہو گیا؟ کیا مزدور کی مزدوری اسے بچوں کی کفالت کے لیے کافی ہوگئی؟ یا روٹی بہت سستی ہو گئی ہے، یا روٹی اتنی موٹی ہو گئی ہے کہ ایک فرد کے لیے دو روٹی کافی ہو جائے۔
کون سا انقلاب آ گیا، کون سی معاشی خوشحالی آ گئی؟ معیشت کا یہ کیسا نشان ہے کہ اس استحکام کے اثرات ہمیں محسوس ہی نہیں ہوئے۔ معاشی ترقی کے اثرات ہم تک نہیں پہنچے۔ 50 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہو گئے، ابھی مزید افراد کا اضافہ ہوگا۔ اتنی زیادہ غربت آنے کے بعد غربت کی شرح مزید بڑھ جائے گی۔ اس میں کمی کے امکانات نہیں ہیں۔
زرمبادلہ کا ذخیرہ بڑھتا ہے پھر اس میں سے قسطوں کی ادائیگی، سود کی ادائیگی درآمدی بل کی ادائیگی اور بہت کچھ مل کر ذخیرے کو سکیڑ دیتے ہیں اور پھر اسی قسم کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے اور بالآخر یہ استحکام کو متاثر کرکے رہے گی۔ گزشتہ مرتبہ جب آئی ایم ایف کی قسط آئی تو معیشت کو عارضی طور پر جگمگاتے دیکھا، لیکن جلد ہی وہی ڈالر قسطوں کی ادائیگی اور سود کی ادائیگی، درآمدی بلوں کی ادائیگی اور کئی کاموں میں استعمال ہو کر رہ گیا۔ اسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ معیشت ایک منحوس چکر میں آ چکا ہے اور یہ سلسلہ عرصہ دراز سے اس بات کا متقاضی ہے کہ معیشت کو اس منحوس چکر سے مستقل چھٹکارا دلایا جائے۔
ہر حکومت کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ معیشت کو دباؤ سے نکالا جائے اور ایسا کرتے کرتے معیشت تو دباؤ سے نکلتی ہے البتہ قرض بڑھنے سے عام شہری مزید قرض کے بار کے دباؤ میں آ جاتا ہے اور پھر معیشت کو اس دباؤ سے نکالنے کے لیے ایک مرتبہ پھر قرض کے حصول کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں اور قرض منظوری کے بعد سمجھتے ہیں کہ عارضی طور پر معاشی دباؤ سے چھٹکارا حاصل کر لیا ہے اور پھر کئی اشاریوں میں بہتری کے دعوے کیے جاتے ہیں جو لاحاصل ہوتے ہیں کیونکہ غریب کی غربت میں حقیقی کمی نہیں ہوتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہے کہ معیشت کی ادائیگی معیشت کو ہو گئی گئی ہے رہا ہے ہے اور اس بات
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔