Jasarat News:
2026-06-03@01:44:12 GMT

کراچی ٹریفک حادثات

اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی میں ٹریفک حادثات اب روزمرہ کا معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ای چلان میں مست حکومت دیگر ٹریفک کے ایشوز پر توجہ دینے سے قاصر ہے۔ شہر کا کوئی کونہ، کوئی چورنگی، کوئی شاہراہ ایسی نہیں بچی جہاں انسانی جان محفوظ ہو۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے تین الگ الگ حادثات میں دو افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک خاتون سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔ مگر یہ صرف چند گھنٹوں کے اندر پیش آنے والے واقعات ہیں؛ اگر پورے مہینے یا سال کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال کہیں زیادہ سنگین دکھائی دیتی ہے۔ یہ امر تشویشناک ہے کہ کراچی میں ہر سال اوسطاً 1,500 سے زائد افراد ٹریفک حادثات میں جان سے جاتے ہیں، جبکہ 25 ہزار ٹریفک پولیس کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں ہونے والے 35 فی صد مہلک حادثات بھاری گاڑیوں کی تیز رفتاری یا لاپروائی کے باعث ہوتے ہیں۔ مسئلہ صرف حادثات کا نہیں، بلکہ پورے نظام کے بگاڑ کا ہے۔ سڑکوں کی حالت بگڑتی جا رہی ہے، بھاری گاڑیوں کی چیکنگ رسمی کارروائی بن چکی ہے، اور شہریوں میں بھی قوانین کی پاسداری کا شعور مسلسل گر رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ سلسلہ کب رکے گا؟ حکومت کب سمجھے گی کہ روڈ سیفٹی محض ایک ’ٹریفک ایشو‘ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے؟ یہ وقت ہے کہ سندھ حکومت صرف میڈیا پر دعوئوں کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دے، ڈمپر مافیا ایک طرف للکار رہی ہے حکومت بے بس ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ صرف ایک عام آدمی کو نہیں اشرافیہ اور مافیا کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے، ورنہ یہ شہر یوں ہی خون سے رنگا رہے گا۔

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی