ایئرکرافٹ انجینئرز کے احتجاج کے باعث آج بھی پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن متاثر
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
کراچی:
پی آئی اے انتظامیہ اور انجینئرز کے درمیان جاری تنازع کے باعث آج بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہیں۔
کراچی سے دبئی جانے والی پرواز پی کے 213 اور کراچی سے ملتان جانے والی پی کے 330 منسوخ کر دی گئی ہیں۔ پشاور سے شارجہ کی پرواز پی کے 257 بھی منسوخ کی گئی ہے۔ گزشتہ پانچ روز کے دوران مجموعی طور پر 40 پروازیں منسوخ اور 100 سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار رہی ہیں۔
آج صبح کراچی سے اسلام آباد جانے والی پرواز پی کے 300 آدھے گھنٹے تاخیر سے روانہ ہوئی۔ کراچی سے لاہور کی صبح 8 بجے والی پرواز پی کے 302 دوپہر ساڑھے 12 بجے روانہ ہوگی۔ کراچی سے کوئٹہ کی پرواز پی کے 310 ساڑھے چار گھنٹے تاخیر سے شام 5:30 بجے روانہ ہوگی۔ کراچی سے لاہور کی دوپہر 2 بجے والی پرواز پی کے 304 چار گھنٹے تاخیر سے شام 6 بجے روانہ ہوگی۔ کراچی سے مدینہ کی پرواز پی کے 743 دو گھنٹے تاخیر سے رات 10 بجے شیڈول کی گئی ہے۔
اسلام آباد سے کوئٹہ جانے والی پرواز پی کے 325 ساڑھے چار گھنٹے تاخیر سے دوپہر 12:30 بجے روانہ ہوگی، اور اسلام آباد سے العین کی پرواز پی کے 143 تین گھنٹے تاخیر سے رات ساڑھے 12 بجے شیڈول کی گئی ہے۔ لاہور سے کراچی کی پرواز پی کے 303 دو گھنٹے تاخیر سے دوپہر 1 بجے روانہ ہوگی، اور پی کے 305 شام 5 بجے کے بجائے ایک گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہوگی۔ پشاور سے ابوظہبی کی پرواز پی کے 217 ساڑھے سات گھنٹے تاخیر سے شام ساڑھے 6 بجے روانہ ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: والی پرواز پی کے گھنٹے تاخیر سے بجے روانہ ہوگی کی پرواز پی کے جانے والی کراچی سے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔