انصاف میں تاخیر اور کارکردگی پر آئی ایم ایف کے تحفظات
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان سے عدالتی نظام، بیوروکریسی اور ریاستی اداروں میں احتساب کے عمل کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ سرکاری زمینوں اور ان کے مالک اداروں کا مرکزی ریکارڈ بنایا جائے، ججوں کی کارکردگی اور تقرری میں شفافیت لائی جائے اور بیوروکریٹس کے اثاثوں کے گوشوارے عوام کے سامنے لائے جائیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے، سرمایہ کاری معاہدوں اور دی جانے والی مراعات کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں، جب کہ اسٹیٹ بینک کے بورڈ سے سیکرٹری خزانہ کو ہٹانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ یہ سفارشات آئی ایم ایف کی گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک رپورٹ کا حصہ ہیں، جو حکومت، سپریم کورٹ، آڈیٹر جنرل اور نیب سے مشاورت کے بعد تیار کی گئی۔
وزارت خزانہ رپورٹ کی اشاعت میں تاخیر کا شکار ہے حالانکہ قانون کے مطابق یہ رپورٹ روکی نہیں جاسکتی۔ آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ یہ رپورٹ بورڈ اجلاس سے پہلے شائع کی جائے، کیونکہ اسی اجلاس میں 1.
رپورٹ میں مزید تجویز دی گئی ہے کہ ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر کے ٹیکس کلیکشن سے علیحدہ کیا جائے، پبلک پروکیورمنٹ سسٹم میں اصلاحات لائی جائیں اور سرکاری زمینوں کی ملکیت و منتقلی کیلئے قواعد پر مبنی ایک مرکزی اثاثہ جات رجسٹری قائم کی جائے۔ اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترمیم کر کے گورنر یا ڈپٹی گورنرز کی برطرفی کی وجوہات بھی عوام کے سامنے لانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔