امن و امان کی صورتحال، پبلک ٹرانسپورٹ پر 3 دن کیلئے پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر پبلک ٹرانسپورٹ پر تین روزہ پابندی عائد کردی گئی ہے۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جاری امن و امان کی مخدوش صورتحال اور ممکنہ دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر انتظامیہ نے ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ پر فوری طور پر تین روزہ پابندی عائد کر دی ہے۔
اس فیصلے کے تحت 12 نومبر سے 14 نومبر 2025 تک بسوں، ویگنوں، کوچز اور دیگر عوامی ٹرانسپورٹ وسائل کی نقل و حرکت معطل رہے گی۔
صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اقدام عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، خاص طور پر حالیہ ریلوے ٹریک دھماکوں اور انٹیلی جنس رپورٹس میں درج ممکنہ حملوں کے تناظر میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب خان کاکڑ نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس پابندی کا اعلان کیا، جس میں ڈپٹی کمشنرز، ٹریفک پولیس اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خلاف ورزی کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے روٹ پرمٹس منسوخ کر دیے جائیں گے اور گاڑیوں کو ضبط کر لیا جائے گا۔شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ سٹینڈز، سریاب بس ٹرمنل اور جبل نور بس اسٹینڈ پر سخت چیکنگ شروع کر دی گئی ہے، جبکہ شہر کی حدود سے باہر جانے والی تمام شاہراہوں پر پولیس اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کی مشترکہ فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔
اس پابندی سے متاثر ہونے والے مسافر، خاص طور پر طلبہ، ملازمین اور مریضوں کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو اب نجی گاڑیوں یا پیدل سفر پر مجبور ہیں۔ کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس اور بولان میل ٹرین سروسز 9 نومبر سے 12 نومبر تک معطل رہنے کے بعد اب 15 نومبر تک مزید توسیع کرنے کا امکان ہے ۔
پاکستان ریلوے کے ذرائع کے مطابق یہ اقدام سکھر میں اکتوبر میں پیش آنے والے ریلوے ٹریک دھماکے کے بعد کی جانے والی انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے جس میں کم از کم سات افراد زخمی ہوئے تھے۔ ٹرین سروس کی بندش کی وجہ سے بھی کئی مسافر پھنس کر رہ گئے ہیں اور اب پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش نے پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
دوسری جانب ٹرانسپورٹ یونینز نے پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش پر سخت احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرحمن کاکڑ نے کہا کہ یہ پابندی ہمارے روزگار پر براہ راست حملہ ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال بہتر ہونے پر پابندی فوری طور پر ہٹا دی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات سے بچیں اور سرکاری ہدایات کی پابندی کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پبلک ٹرانسپورٹ
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔